پندرہ سال سے کم عمر حافظِ قرآن کی تراویح!

(فتویٰ نمبر: ۱۱۵)

سوال:

میری عمر کے پندرہ سال مکمل ہوچکے ہیں اور اب سولہواں سال جاری ہے، اور میرے والد صاحب جو کہ حافظ ہیں، ضعف اور کمزوری کی وجہ سے تراویح نہیں پڑھاسکتے ہیں، اب ان کی خواہش ہے کہ میں ان کی جگہ ان کی مسجد میں نماز پڑھاوٴں۔د ریافت طلب امر یہ ہے کہ میں تراویح پڑھاسکتا ہوں یا نہیں؟ واضح رہے کہ مجھے ابھی داڑھی مونچھ نہیں نکلی ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر آپ کی عمر کے پندرہ برس مکمل ہوچکے ہیں، تو شرعاً آپ کے پیچھے تراویح اور فرض نماز سب درست ہے، اگرچہ داڑھی مونچھ نہ نکلی ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (بلوغ الغلام بالاحتلام ۔۔۔۔ والإنزال) ، والأصل هو الإنزال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (فإن لم یوجد فیهما) شيء (فحتی یتم لکل منهما خمس عشرة سنة ، به یفتی) لقصر أعمار أهل زماننا (وأدنی مدته له اثنتا عشرة سنة ولها تسع سنین ، هو المختار ، کما في أحکام الصغار ۔

(در مختار) ۔(۲۲۵/۹ ، ۲۲۶ ، کتاب الحجر ، ط : بیروت)

(نتائج الأفکار وهي تکملة فتح القدیر :۲۶۹/۹ ، کتاب الحجر ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

ما في ” البحر الرائق “ : ویفتی بالبلوغ فیهما بخمسة عشر سنةً ۔(۱۵۳/۸ ، کتاب الإکراه ، باب الحجر ، فصل في حد البلوغ)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۲۴۷/۴) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۷/۲۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔