پگڑی کی رقم لینا اور دینا شرعاً کیسا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۱۴)

سوال:

۱-گورنمنٹ آف انڈیا (Government of india)کے قانون کے بموجب جس کو قبضہ داری کے حقوق حاصل ہیں، اس سے قبضہ داری کے حقوق خرید کر اگریمینٹ (Agreement) بنانا جائز ہے یا نہیں ؟

۲– پگڑی کا مکان، دکان، کارخانہ یافیکٹری (Factory) کا لینا دینا جائز ہے یا نہیں، جب کہ پگڑی لینے والے کی ملکیت میں موجود، دوچار ہزار کے فرنیچر(Furniture) کی قیمت چودہ پندرہ لاکھ وصول کی جاتی ہے، جو شریعت کے ساتھ علانیہ مزاق ہے، آخر مسلمان کس طرح چل کر شریعت کا پابند بنے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– جائز نہیں، کیوں کہ وہ خود شرعاً اس حقِ قبضہ داری کا مالک نہیں ہے۔

۲-اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا(Islamic fiqh academy india)کے سمینار (Seminar) (منعقدہ:۸/تا ۱۱/دسمبر ۱۹۸۹ء بمقام دہلی ) میں شریک علما ومفتیانِ کرام نے پگڑی کی رقم لینے اور دینے کو جائز قرار دیا، جیسا کہ اس کی تجویز نمبر ۲/ سے معلوم ہوتا ہے، کہ مالکِ مکان نے بحیثیتِ مالک اپنے مکان کو کرایہ دار سے واپس لینے کے حق سے دست بردار ی کا عوض وصول کرلیا ہے، یہ رقم اس کے لیے اس حقِ عوض ہونے کی بنیاد پر جائز ہوگی۔ (اہم فقہی فیصلے :ص/ ۱۰)؛ اس لیے پگڑی کی دکان، مکان، کارخانہ یا فیکٹری (Factory) کا لینا دینا جائزہے، رہی یہ بات کہ اس دکان، مکان، کارخانہ یا فیکٹری (Factory)میں دو چار ہزار کی قیمت کا فرنیچر (Furniture) ہوتا ہے، اور اس کی قیمت چودہ پندرہ لاکھ لگائی جاتی ہے، تو یہ قیمت اس فرنیچر (Furniture) کی نہیں بلکہ ”بدلِ خلو“ یعنی حقِ قبضہ داری سے سبک دوشی کا عوض ہے، جسے فقہائے کرام جائز قرار دیتے ہیں، لیکن اگر حقِ قبضہ داری سے سبک دوشی کا عوض مستقلاً لے لیا گیا ہو، تواس صورت میں دو چار ہزار مالیت کے فرنیچر(Furniture) پر پندرہ لاکھ وصول کرنا خلافِ مروت اور خلافِ مزاجِ شرع ہے(۱)، حدیث شریف میں ہے کہ” تم زمین والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم کرے گا، اور جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں ہوتا“۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (ولا یسعر حاکم) لقوله علیه الصلاة والسلام : ” لا تُسعِّرُوا ، فإن اللّٰه هو المسعِّر القابض الباسط الرازق “ ۔ (إلا إذا تعدی الأرباب عن القیمة تعدیًا فاحشًا ، فیسعر بمشورة أهل الرأي) ۔۔۔۔۔۔۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : وظاهره أنه لو باعه بأکثر یحل وینفذ البیع ۔(۵۷۳/۹ ،۵۷۴)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو زاد المشتري في الثمن باعه مرابحة علی الأصل والزیادة جمیعًا ۔ (۱۶۳/۳)

وفیه أیضًا : ومن اشتری شیئًا وأغلی في ثمنه فباعه مرابحة علی ذلک جاز۔ (۱۶۱/۳)

(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عبد اللّٰه بن عمر قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” الراحمون یرحمهم الرحمن ، ارحموا من في الأرض یرحمکم من في السماء “۔

(۴۲۳/۲، کتاب الأدب ، باب الشفقة والرحمة علی الخلق ، الفصل الثاني)

(فتاویٰ محمودیه:۱۵۲/۱۶)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جریر بن عبد اللّٰه قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” لا یرحم اللّٰه من لا یرحم الناس “ ۔ متفق علیه ۔ (۴۲۱/۲) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۸/۱۲/۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔