مسئلہ:
اگر کوئی صاحب نصاب شخص نصاب پر سال گزرنے سے پہلے ہی پیشگی زکوٰة ادا کردے تو جائز ہے ، سا ل پورا ہونے پرنصاب باقی ہے تویہ پیشگی اداکردہ زکوٰة، زکوٰة ہوگی، ورنہ صدقہٴ نافلہ ہوگی(۱)،نیز زکوٰة کی ادائیگی کے وجوب کیلئے کوئی مہینہ یاتاریخ متعین نہیں ہے ، بلکہ جس دن نصاب پر سال پورا ہو، اسی تاریخ کوزکوٰةکی ادائیگی واجب ہوگی ،مگربہت سے لوگ رمضان المبارک میں زکوٰة اداکرتے ہیں ،بعض تو وہ ہوتے ہیں کہ رمضان ہی میں ان کے نصاب پر سال پورا ہوتاہے وہ وقت ہی پر اداکررہے ہیں ،او ربعض وہ ہوتے ہیں کہ ان کے نصاب پر سال پہلے ہی پورا ہوچکا ہوتاہے ، ان کیلئے بہتریہ تھا کہ جس وقت سال پورا ہو اسی وقت اداکرتے ،کیوں کہ اداء زکوٰة میں تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی ہے(۲)،اور بعض وہ ہوتے ہیں جو رمضان المبارک کی فضیلت وبرکت (ثواب میں۷۰ گنا اضافہ)سے فائدہ اٹھانے کیلئے پیشگی زکوٰة دیتے ہیں جو کہ جائز ہے ، مگر تین شرطوں کے ساتھ:
۱-بوقتِ تعجیلِ زکوٰة(پیشگی زکوٰةاداکرتے وقت)سال شروع ہوچکاہو۔
۲-اخیر سال میں وہ نصاب کامل ہو جس کی پیشگی زکوٰة دی گئی۔
۳-درمیان میں اصلِ نصاب فوت نہ ہو۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الفتاوی الولوالجیة “ : یجوز تعجیل الزکاة بعد ملک النصاب ، لأنه عجل بعد وجود السبب وهو ملک النصاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا یجوز التعجیل علی ملک النصاب لفقد السبب أصلا ۔(۱۹۳/۱، کتاب الزکاة)
(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وتجب علی الفور عند تمام الحول ، حتی یأثم بتاخیره من غیر عذر ، وفي روایة الرازي علی التراخي ، حتی یأ ثم عند الموت ، والأول أصح ۔ کذا في التهذیب ۔(۱۷۰/۱ ، کتاب الزکاة ، الباب الأول وتفسیرها وصفتها وشرائطها)
(۳) ما في ” الفتاوی التاترخانیة “ : وشرح الطحطاوي وإنما یجوز التعجیل بشرائط ثلاثة : أحدها : أن یکون الحول منعقدا وقت التعجیل ۔ والثاني : أن یکون النصاب کاملا في التي عجل عنه في آخر الحول ۔ والثالث : أن لا یفوت أصله فیما بین ذلک ۔ (۲۸/۲ ، کتاب الزکاة)
