چرم قربانی کی خرید وفروخت میں شرط

مسئلہ:

اہلِ مدارس قربانی کے دنوں میں چرم قربانی جمع کرتے ہیں، پھر انہیں فروخت کرکے اس کی قیمت مستحق طلبہ پر خرچ کرتے ہیں، بعض ذمہ دارانِ مدرسہ جب چرم کے بیوپاری سے معاملہ کرتے ہیں، تو یہ شرط لگاتے ہیں کہ آج دس تاریخ کو جس قیمت پر آپ ہمارے چرم خرید رہے ہیں، گیارہ اور بارہ تاریخ کو بھی اُسی قیمت پر خریدوگے، اس طرح قید لگانا درست نہیں، جس دن بازار میں جو بھاوٴ ہو، اسی بھاوٴ پر خرید وفروخت ہونا چاہیے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ولا بیع بشرط لا یقتضیه العقد ولا یلائمه وفیه نفع لأحدهما أو فیه نفع لمبیع هو من أهل الاستحقاق ولم یجر العرف به ولم یرد الشرع بجوازه۔(۲۸۱/۷۔۲۸۲، باب البیع الفاسد، مطلب في الشرط الفاسد إذا ذُکر بعد العقد أو قبله)

ما في ” مجمع الأنهر “ : ولو کان البیع بشرط لا یقتضیه العقد وفیه نفع لأحد المتعاقدین أو لمبیع یستحق فهو فاسد۔

(۹۰/۳، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، الهدایة:۴۳/۳، باب البیع الفاسد)

(فتاویٰ محمودیہ:۸۸/۱۶، ط؛ کراچی، ۹۶/۲۴، ط؛ میرٹھ)

( فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۷۵۹۴)

اوپر تک سکرول کریں۔