چھوٹے بچے کا پیشاب پاخانہ دھلانے سے وضو نہیں ٹوٹتا

مسئلہ:

بعض عورتیں باوضو ہونے کی حالت میں اپنے چھوٹے بچے کا پیشاب پاخانہ دھلانے پر یہ خیال کرتی ہیں کہ ان کے اس عمل سے خود ان کا وضو بھی ٹوٹ گیا، جبکہ یہ خیال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ وضو کے ٹوٹنے کیلئے نواقضِ وضو میں سے کسی ناقض کا پایا جانا ضروری ہے، اور وہ یہاں نہیں پایا گیا، اس لئے ان کا وضو بھی نہیں ٹوٹا ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” نصب الرایة “ : سئل رسول الله ﷺ ما الحدث ؟ فقال : ” ما یخرج من السبیلین “ ۔ (۸۳/۱ ، فصل نواقض الوضوء)

ما فی ” الإختیار لتعلیل المختار “ : وینقضه کل ما خرج من السبیلین ومن غیر السبیلین إن کان نجسًا وسال عن رأس الجرح ۔

(۱۴/۱ ، مختصر القدوري :۲۹/۱ ، نواقض الوضوء)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : منها : ما یخرج من السبیلین من البول والغائط ، والریح الخارجة ، من الدبر والودی والمذی والمنی والدودة والحصاة ۔۔۔۔۔۔۔۔ ومنها ما یخرج من غیر السبیلین ویسیل إلی ما یُطهر من الدم والقیح والصدید والماء لعلة وحد السیلان أن یعلوَ فینحدر عن رأس الجرح ۔

(۹/۱، ۱۰ ، الفصل الخامس فی نواقض الوضوء ، البحر الرائق :۶۱/۱ ، الشامیة : ۲۳۵/۱ ، مطلب فی نواقض الوضوء)

اوپر تک سکرول کریں۔