ڈَو (Dove) کریم کا استعمال

مسئلہ:

بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ڈَو (Dove) اور دیگر کریم جن میں الکحل ہوتا ہے، اُن کا استعمال حلال ہے یا نہیں؟ اور وضو صحیح ہوگا یا نہیں؟ – اِس سلسلے میں عرض ہے کہ آج کل کریموں، دواوٴں اور عطریات وغیرہ میں جو الکحل ملایا جاتا ہے، وہ عموماً انگور اورکھجور کے علاوہ دیگر اشیاء مثلاً ؛ جَو ، گندم وغیرہ سے کشیدہ ہوتا ہے، جن کا حکم مختلف فیہ ہونے کی وجہ سے اُن کو استعمال کرنے کی شرعاً گنجائش ہے، اور ایسی صورت میں وضو اور نماز بھی درست ہوگی، تاہم اگر تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ اُن میں ملایا جانے والا الکحل انگور یا کھجور سے کشیدہ ہے، اور کسی کیمیاوی طریقہ سے اس کی ماہیت کو تبدیل نہیں کیا گیا، تو اِس صورت میں اگرچہ وضو ہوجائیگا، مگر ایسی اشیاء بلا شبہ ناپاک ہیں، اِن کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے، اِس سے بچنا لازم ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” تکملة فتح الملهم “ : حکم الکحول المسکرة فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل غلی حلتها أو طهارتها، وإن اتخذت من غیرها فالأمر فیها سهل علی مذهب أبي حنیفة ۔۔۔۔۔ وإن معظم الکحول التي تستعمل الیوم في الأدویة والعطور وغیرها لا تتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البیترول وغیرها، وحینئذ هناک فسحة في الأخذ بقول أبي حنیفة عند عدم البلوی۔ (۶۰۸/۳، کتاب الطهارة ، الأشربة، حکم الکحول المسکرة)

(فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ:۱۴۲۷۷)

اوپر تک سکرول کریں۔