کافرہ عورت سے نکاح اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد!

(فتویٰ نمبر:۶۴)

سوال:

اگر کوئی شخص کسی کافرہ عورت سے نکاح کرے، اور اس کے بطن سے کچھ اولاد بھی ہو، اور بعد میں وہ عورت مسلمان ہوگئی، تو اس کی یہ اولاد کیا ولد الزنا کہلائے گی؟یا پھرحلال اولاد شمار ہوگی؟ اور اس کا نسب اس فرد سے ثابت ہوگا یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

مسلمان شخص کا کافرہ عورت سے نکاح، نکاحِ باطل ہے، اور نکاحِ باطل کے نتیجے میں جو اولاد پیدا ہو وہ غیر ثابت النسب ہوتی ہے؛ اس لیے اس مسلمان شخص کا نکاح کافرہ عورت سے باطل ہوگا، اور جواولاد پیدا ہو ئی وہ غیر ثابت النسب ہوگی، لیکن اگر وہ کافرہ عورت اسلام قبول کرلے، تو اب اس مسلمان شخص کا اس سے نکاح کرنا درست ہوگا، لیکن وہ اولاد غیر ثابت النسب ہی رہے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تنکحوا المشرکٰت حتی یوٴمنّ﴾ ۔ (سورة البقرة :۲۲۱)

ما في ” بدائع الصنائع “ : ومنها أن لا تکون المرأة مشرکة إذا کان الرجل مسلمًا ، فلا یجوز للمسلم أن ینکح المشرکة ۔ (۴۵۸/۳ ، کتاب النکاح ، ط : بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وحرم نکاح الوثنیة بالإجماع ۔ (در مختار) ۔ وفي شرح الوجیز : کل مذهب یکفر به معتقده ۔ اه ۔

(۱۲۵/۴ ، کتاب النکاح ، باب نکاح الکافر ، ط : بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولا یصح نکاح عابدة کوکب لا کتاب لها، والمجوسیة والوثنیة۔ (در مختار)۔ (۱۳۵/۴، کتاب النکاح ، باب نکاح الکافر) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۲۵ھ

الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۴/۲۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔