کان میں دانہ یا پھنسی وغیرہ کا ٹوٹ جانا

مسئلہ:

اگر کسی شخص کا کان درد کرتا ہو اوراس سے پانی نکلا کرتا ہے، یا کسی کے کان کے اندر دانہ یا پھنسی ہے، اور وہ ٹوٹ جاوے، تو جب خون ، پیپ سوراخ کے اندر اس جگہ تک رہے جہاں غسل میں پانی پہنچانا فرض نہیں ہے، تو وضو نہیں ٹوٹے گا، اور جب ایسی جگہ پر پہنچ جاوے جہاں غسل میں پانی پہنچانا فرض ہے تو وضو ٹوٹ جائیگا، کیوں کہ یہ پانی نجس ہے، اور کچھ درد وتکلیف نہ ہو اور ایسے ہی پانی نکلے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا خرج من أذنه قیح أو صدید ینظر إن خرج بدون الوجع لاینتقض وضووٴه، وإن خرج مع الوجع ینتقض وضووٴه، لأنه إذا خرج مع الوجع فالظاهر أنه خرج من الجرح، هکذا حکی فتوی شمس الأئمة الحلوانی رحمه الله تعالی، کذا فی المحیط، وهکذا فی الذخیرة والتبیین والسراج الوهاج۔

(۱۱۰/۱- ۱۱، نواقض الوضوء)

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا ینقض لو خرج من أذنه ونحوها کعینه ویدیه قیح، ونحوه کصدید وماء سرة وعین، لا بوجع، وإن خرج به أی بوجع نقض، لأنه دلیل الجرح۔ (۲۷۹/۱، نواقض الوضوء)

(فتاوی رحیمیه: ۲۵/۴، بهشتی زیور مکمل: ۵۱/۱۔۵۲)

اوپر تک سکرول کریں۔