کرایہ دار اول کا کرایہ دار ثانی سے زیادہ رقم لینا!

(فتویٰ نمبر: ۲)

سوال:

زید نے ایک مکان ایک ہزار(۱۰۰۰)روپے ماہانہ کرایہ پر لیا، اب وہ یہی مکان عمرو کو دوہزار (۲۰۰۰)روپے ماہانہ کرایہ پر دے سکتا ہے یا نہیں ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

زید جتنی رقم مکان کے کرایہ میں ادا کررہا ہے اتنی ہی رقم پر عمر و کو دے سکتا ہے، اگر اس سے زائد رقم لیتا ہے، تو اس کو صدقہ کردینا ہوگا، البتہ دو صورتوں میں زیادہ کرایہ لے سکتا ہے:

(۱) کرایہٴ ثانی کرایہٴ اُولیٰ کی جنس سے نہ ہو۔

(۲)کرایہ دار اول نے کرایہ کے مکان میں کچھ اضافہ کیا ہو، مثلاً: اس مکان کی کھڑکی، دروازوں یا دیوار وں وغیرہ کی مرمت کی ہو، یاپانی اور بجلی وغیرہ کی سہولت مہیا کی ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وله السکنی بنفسه وإسکان غیره بإجارة وغیرها) وکذا کل ما لا یختلف بالمستعمل یبطل التقیید ؛ لأنه غیر مفید بخلاف ما یختلف به ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولو آجر بأکثر تصدق بالفضل إلا في مسألتین : إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فیها شیئًا ۔ (در مختار) ۔ (۳۸/۹)

(فتاویٰ محمودیه :۶۰۴/۱۶)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا استأجر دارًا وقبضها ثم آجرها، فإنه یجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأکثر مما استأجرها فهي جائزة أیضًا، إلا أنه إن کانت الأجرة الثانیة من جنس الأجرة الأولٰی، فإن الزیادة لا تطیب له ویتصدق بها، وإن کانت من خلاف جنسها طابت له الزیادة، ولو زاد في الدار زیادة کما لو وتد فیها وتدًا أو حفر بئرًا ۔ اه ۔ (۴۲۵/۴، في إجارة المستأجر) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۱/۱۷ھ

الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی۔۱۴۲۸/۱۱/۱۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔