کرکٹ ٹورنامنٹ( Cricket Tournament) کا حکم شرعی کیا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۴۰)

سوال:

زید اور عمر نے مل کر بارہ ٹیموں سے پچاس پچاس روپے جمع کیے،بعدہ انہوں نے ان ٹیموں کا آپس میں مقابلہ کروایا، جن میں سے چھ ٹیمیں کامیاب اور چھ ناکام ہوئیں، پھر ان چھ میں سے تین کامیاب اور تین ناکام ہوئیں، پھران تین کامیاب ٹیموں میں قرعہ اندازی کی گئی، جس میں دو چٹھیاں اُچھالی گئیں، جن دو ٹیموں کا نام نکلا ان میں آپس میں مقابلہ ہوا، اور جس ایک ٹیم کی چٹھی بچ گئی اُسے بائے (جیت)ملا اور وہ فائنل میں پہنچ گئی، پھر بذریعہٴ قرعہ اندازی جو دو ٹیمیں منتخب کی گئی تھیں، ان میں سے کامیاب ہونے والی ٹیم کا فائنل مقابلہ تیسری ٹیم (جسے قرعہ اندازی کی وجہ سے بائے ملا تھا) سے کرایا گیا، اب فائنل جیتنے والی ٹیم کو اول انعام کے طورپر تین سو(300) روپے، جب کہ ہارنے والی ٹیم کودوسرے انعام کے طورپر ڈیڑھ سو (150)روپے دیے گئے، ٹورنامنٹ (Tournament) کھیلنے کے لیے گیند وغیرہ پچاس(50) روپے کے لائے گئے تھے،اور زید و عمر نے سو(100)روپے بطورِ محنتانہ وصول کیے، اس طرح سے ٹورنامنٹ (Tournament)کے لیے جمع کردہ چھ سو(600) روپے تقسیم کیے گئے، تو کیا شریعت اس طرح سے کھیلے گئے کھیلوں کی اجازت دیتی ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

سوال میں مذکور ٹورنامنٹ (Tournament)کی جو صورت بیان کی گئی، وہ جوا اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً حرام ہے۔ کھیلوں کے سلسلے میں ضابطہٴ اسلامی یہ ہے کہ ہر ایسا کھیل، جو انسان کو واجب حقوق (خواہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد) سے غافل کردے، یا منکرات ومنہیاتِ شرعیہ پر مشتمل ہو ،یا اس کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوں، ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے، اور شریعتِ اسلامیہ اپنے ماننے والوں کو اس طرح کا کھیل کھیلنے سے منع کرتی ہے۔(۱)

اس ضابطہٴ اسلامی کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلنا شرعاً ناجائز ہے، کیوں کہ یہ بہت سی دینی ودنیوی خرابیوں کا مجموعہ ہے ، مثلاً:

۱-اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے نماز باجماعت فوت ہوتی ہے، جب کہ نماز باجماعت واجب ہے(۲)،یا نمازیں قضا کرنی پڑتی ہیں، جب کہ نمازوں کو جان بو جھ کر قضا کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔(۳)

۲-ملازمین کے فرائض وواجبات میں کوتاہی وخلل واقع ہوتا ہے، جب کہ اصحابِ حقوق کے حقوق میں کوتاہی کرنا حرام ہے۔(۴)

۳-مدارس ومساجد جو پڑھنے لکھنے اور عبادت کی جگہیں ہیں،وہاں اسی عنوان پر گفت وشنید اور تذکرہ وتبصرہ ہوتا ہے، جب کہ مساجد کا ادب واحترام واجب ہے۔(۵)

۴-کھیل کے دنوں میں سرکاری ونیم سرکاری، شخصی ونجی ادارے معطل ہوکر رہ جاتے ہیں ، جس سے قومی وملکی اور شخصی وذاتی زبردست مالی نقصان اور تضییعِ اوقات لازم آتا ہے،جب کہ مال ووقت دونوں کو ضائع کرنا شرعاً حرام ہے، علامہ یوسف قرضاوی حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”وقت کو ضائع کرنا مال کے ضائع کرنے کی حماقت وسفاہت سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے ، کیوں کہ مال دوبارہ حاصل ہوسکتا ہے، لیکن وقت نکل جانے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹتا“۔(۶)

۵-مدارس، اسکول(School)، کالج(Collage) اوریونیورسٹی (Univercity) کے طلبا واسٹوڈینٹس (Students)کی تعلیم متأثر ہوتی ہے ، جب کہ طلبِ علم فرض ہے۔(۷)

۶-کسی ٹیم (Team)کے ہار جانے پر اس کو سخت ذلیل ورسوا کیا جاتا ہے ،جب کہ یہ امر شرعاً حرام ہے۔(۸)

۷-بسااوقات اس کھیل کے شرکا کو سخت جسمانی اذیت ونقصان اٹھانا پڑتا ہے کہ؛ بعض کی ٹانگیں ٹوٹتی ہیں اور بعض کے پیٹ میں ایسی سخت چوٹ لگتی ہے کہ وہ لبِ مرگ ہوجاتا ہے ، جب کہ اسلام نے اپنے آپ کو اس طرح کی اذیت پہنچانے والے ہر عمل سے منع کیا۔(۹)

۸-جب یہ کھیل دو قومی ٹیموں کے مابین ہوتاہے تو دنگے فساد(Riot) کا سبب بنتا ہے، جس سے بے شمار جانیں فوت اور بے انتہامال تلف ہوتا ہے، جب کہ حفاظتِ جان ومال مقاصدِ شرعیہ میں داخل ہے۔(۱۰)

۹-اس کھیل میں شریک ٹیموں کی ہارجیت پر بڑا جوا کھیلا جاتا ہے، جو شریعت کی نگاہ میں حرام ہے۔(۱۱)

۱۰-جب کھیل آبادی کے اندر ہوتا ہے تو راہ گیروں کے لیے اذیت، مکانوں کی کھڑکیوں کے ٹوٹنے اور شیشوں کے پھوٹنے کا سبب بنتا ہے، جب کہ کسی کو جسمانی یا مالی نقصان پہنچانا شرعاً حرام ہے۔(۱۲)

۱۱-دورانِ کھیل تالیاں اور سیٹیاں بجائی جاتی ہیں، جو کفار کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ممنوع ہیں۔(۱۳)

جب یہ کھیل اتنی ساری دینی ودنیوی خرابیوں کا ذریعہ ہے، تو وہ شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ شریعت ہر اس ذریعے کو بھی منع کرتی ہے جو انسان کو برائی تک پہنچاتا ہے۔(۱۴)

الغرض؛ سوال میں مذکور طریقے پر کرکٹ ٹورنامنٹ( Cricket Tournament) کھیلنا، کھلانا، میدان میں یا ٹی وی (TV) وغیرہ پر دیکھنا، اسی طرح ریڈیو(Radio) وغیرہ پر اس کی کمنٹری (Commentary) سننا، سنانا اور اس پر بحث ومباحثہ کرنا، معصیت ونافرمانی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا،اور زندگی کے قیمتی اوقات کو ضائع کرنا ہے، اور یہ دونوں چیزیں (تعاون علی المعصیت اور تضییعِ اوقات)شرعاً حرام ہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” أحکام القرآن للتھانوي “ : وفذلکة الکلام : أن اللهو علی أنواع : لهو مجرد ، ولهو فیه نفع وفائدة ، ولکن ورد الشرع بالنهي عنه ، ولهو فیه فائدة ولم یرد في الشرع نهي صریح عنه ، ولکنه ثبت بالتجربة بأنه یکون ضرره أعظم من نفعه ملتحق بالنهي عنه ۔(۲۰۱/۳، اختلاف الفقهاء في بعض الملاهي)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : والجماعة سنة موٴکدة للرجال ، قال الزاهدي : أرادوا بالتأکید الوجوب ۔ (در مختار) ۔ وفي النهر عن المفید : والجماعة واجبة ، وسنة لوجوبها بالسنة ۔ اه ۔ (۲۸۷/۲ ، کتاب الصلاة ، باب الإمامة)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : إذ التأخیر بلا عذر کبیرة لا تزول بالقضاء بل بالتوبة ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : وإنما یزول إثم الترک فلا یعاقب علیها إذا قضاها وإثم التأخیر باق ۔(۲/ ۵۱۸ ، کتاب الصلاة ، باب قضاء الفوائت)

(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَیْلُ لَّلْمُطَفِّفِیْنَ﴾ ۔ (سورة التطفیف :۱)

(معارف القرآن : ۶۹۳/۸، تفسیر مظهری :۱۸۹/۱۰)

(۵) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن الحسن مرسلا قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ”یأتي علی الناس زمان یکون حدیثهم في مساجدهم في أمر دنیاهم فلا تجالسوهم فلیس للّٰه فیهم حاجة “ ۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان ۔ (ص/۷۱ ، باب المساجد ومواضع الصلاة)

ما في ” البحر الرائق “ : الکلام المباح في المسجد مکروه یأکل الحسنات کما تأکل النار الحطب ۔ (۴۷۷/۲ ، رد المحتار : ۴۳۶/۲)

(۶) ما في ” الألعاب الریاضیة “ : یقول ” د “ یوسف القرضاوي حفظه اللّٰه : والحق أن السفه في إنفاق الأوقات أشد خطرًا من السفه في إنفاق الأموال ۔۔۔۔۔۔ ؛ لأن المال إذا ضاع قد یعود ، والوقت إذا ضاع لا عوض له ۔ (ص/۳۲۰ ، ط : دار النفائس أردن)

(۷) ما في ” المعجم الأوسط للطبراني “ : عن أنس بن مالک قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” طلب العلم واجب علی کل مسلم “ ۔ (۲۳۱/۶ ، ط : بیروت)

(۸) ما في ” جامع الترمذي “ : قال (النبي) ﷺ : ” فإن دمائکم وأموالکم وأعراضکم بینکم حرام “ ۔ (۳۹/۲)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” المسلم أخو المسلم لا یخونه ، ولا یکذبه ولا یخذله ، کل المسلم علی المسلم حرام : عرضه ، وماله ، ودمه ، التقوی ههنا ، بحسب من الشر أن یحتقر أخاه المسلم “ ۔ هذا حدیث حسن غریب ۔ (۱۴/۲ ، مشکوة المصابیح :ص/۴۲۲)

(۹) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَا ُتلْقُوْا بِأَیْدِیْکُمْ إِلَی التَّهلُکَةِ﴾ ۔ (سورة البقرة : ۱۹۵)

(۱۰) ما في ” الموافقات للشاطبي “ : ومجموع الضروریات خمسة: وهي حفظ الدین، والنفس، والنسل، والمال، والعقل، وقد قالوا: إنها مراعاة في کل ملة۔ (۳۲۶/۲)

(طرق الکشف عن مقاصد الشرع : ص/۳۵)

(مقاصد الشریعة الإسلامیة لإبن عاشور :ص/۹۲ ، المقاصد الشرعیة للخادمي : ص/۵۸)

(۱۱) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿یٰأَیَّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْه لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ أَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعُدْاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰه وَعَنِ الصَّلٰوةِ فَهلْ أَنْتُمْ مُنْتَهوْنَ﴾ ۔ (سورة المائدة :۹۰ ،۹۱)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : أما إذا کان البدل من الجانبین فهو قمار حرام ۔ (۳۲۴/۵)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ومن اللعب المحرم عند الفقهاء : کل لعبة فیها قمار ؛ لأنها من المیسر الذي أمر اللّٰه باجتنابه في قوله تعالی : ﴿یٰأَیَّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ﴾ ۔

(۲۶۹/۳۵)

(۱۲) حواله سابقه ، حاشیه نمبر (۸) ۔

(۱۳) ما في ” القرآن الکریم “ :﴿وَمَا کَانَ صَلٰوتُهمْ عِنْدَ الْبَیْتِ إِلَّا مُکَآءً وَّتَصْدِیَةً﴾ ۔ (سورة الأنفال:۳۵)

ما في” السنن لأبي داود “ : ” من تشبه بقوم فهو منهم “ ۔ (ص/۵۵۹ ، ط : قدیمي)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وکره کل لهو) أي کل لعب وعبث ۔۔۔۔۔ والتصفیق وضرب الأوتار ۔ (۵۶۶/۹)

(۱۴) ما في ” إعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود۔(۱۷۵/۳ ، الفروق للقرافي : ۶۲/۲)

ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ :مفاده أن الذرائع تعد وسائلا إلی المقاصد ، وحکمها حکم مقاصدها ، من حیث التحریم والوجوب والکراهة والندب والإباحة ، أي أن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبًا ۔ (ص/۴۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۳/۸ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔