مسئلہ:
بعض دفعہ کسی شخص کی کوئی فائل کسی شعبہ یا ڈپارٹمنٹ میں ہوتی ہے، اسے اپنی فائل دیکھنے ، ٹائپ کروانے، یا اس کی نقل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ متعلقہ ڈپارٹمنٹ کے کلرک سے اس فائل کو دکھانے، ٹائپ کرنے، یا اس کی نقل دینے کی درخواست کرتا ہے، جس پر یہ کلرک کچھ رقم کا مطالبہ کرتا ہے، اگر یہ رقم ان امور کی اجرت ہے، اورمتعلقہ شعبہ کی طرف سے متعین کی گئی ہے، تو اس کیلئے اس رقم کا لینا جائز ہے(۱)، لیکن اگر یہ رقم ان امور کی اجرت نہیں ہے، اور متعلقہ شعبہ کی طرف سے یہ چیزیں طالب شخص کو مفت دی جانے کا حکم ہے، اور کلرک کو ان کاموں کی انجام دہی پر تنخواہ بھی دی جاتی ہے، تو کلرک کا یہ رقم لینا رشوت ہے جو حرام ہے(۲)، لیکن اگر یہ رقم دیئے بغیر کام نہیں ہوسکتا تو رشوت دینا جائز ہوگا، کیوں کہ فقہائے کرام نے صاحب حق کو اپنے حق کی وصولی کیلئے رشوت دینے کی اجازت دی ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : أما بیان أنواعها فنقول : إنها نوعان یرد علی منافع الأعیان کاستئجار الدور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ونوع یرد علی العمل کاستئجار المحترفین للأعمال کالقصارة والخیاطة والکتابة وما أشبه ذلک ،کذا في المحیط۔(۴۱۱/۴، کتاب الإجارة، الباب الأول)
(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔ (سورة النساء :۲۹)
ما فی” السنن للترمذی “ : ” لعن رسول الله ﷺ الراشی والمرتشی فی الحکم “۔ (۲۴۸/۱، أبواب الأحکام، باب ما جاء فی الراشی والمرتشی)
ما فی ” سبل السلام شرح بلوغ المرام “ : والرشوة حرام بالإجماع سواء کانت للقاضی أو للعامل علی الصدقة أو لغیرهما، لقوله تعالی:﴿ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بها إلی الحکام لتأکلوا فریقاً من أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون﴾۔(۱۴۷۱/۴، الرشوة للقاضی والهدیة ، سورة البقرة : ۱۸۸)
ما فی ” الشامیة “ : ولا یجوز أخذ المال لیفعل الواجب۔ (۳۳/۸،کتاب القضاء، مطلب فی الأحکام علی الرشوة والهدیة)
(۳)ما فی ” بذل المجهود “ : فأما إذا أعطی لیتوصل به إلی الحق أو یدفع عن نفسه ظلماً، فإنه غیر داخل فی هذا الوعید۔(۳۰۶/۱۱،باب فی کراهیة الرشوة،رقم الحدیث:۳۵۸۰)
(کفایت المفتی: ۳۴۰/۷۔۳۵۲)
