مسئلہ:
جن لوگوں کے نام اللہ تعالی کے صفاتی نام پرہوں، جیسے عبدالرحمن ، عبدالقیوم وغیرہ، ایسے شخص کو اے رحمن اے قیوم کہہ کر پکارنا ایک قسم کی سوءِ ادبی ہے، لہذا اس طرح پکارنے سے احتراز کرکے پورانام لینا چاہیے، اگر کوئی شخص قصدًا اس طرح پکا رے تو یہ کفر ہے، کیونکہ کسی کی تعظیم کرتے ہوئے اللہ پاک کا نام بولنا اس کو اللہ کے درجہ میں تسلیم کرنا ہے جو موجبِ کفر ہے ،الا یہ کہ پکارنے والا معنی ٔ لغوی کا قصد کرے توموجبِ کفرنہیں،تاہم احتیاط اسی میں ہے کہ پورانام لیا جائے۔
الحجة علی ماقلنا
ما في ’’شرح الفقه الأکبر‘‘: ومن قال لمخلوق یا قدوس أوالقیوم أوالرحمٰن أوقال إسما من أسماء الخالق کفر وھو یفید أنه من قال لمخلوق یا عزیز ونحوه یکفر أیضاًإلا إن أراد بھما المعنی اللغوي لا الخصوص الإسمي ۔ والأحوط أن یقول یا عبد العزیز ویا عبد الرحمٰن۔(ص۱۹۳، مکتبه حقانیه ملتان، ص۲۳۸، مکتبه أشرفي بکڈپو دیوبند)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: قال أبو اللیث : لا أحب للعجم أن یسموا عبد الرحمٰن وعبد الرحیم لأنھم لا یعرفون تفسیره ویسمونه بالتصغیر۔ تاتارخانیة، وھذا مشتھر في زماننا حیث ینادون من إسمه عبد الرحیم وعبد الکریم أو عبد العزیز مثلاً فیقولون رحیم وکریم وعزیز بتشدید یاء التصغیر۔(۵۱۲/۵، کتاب الحظر والإباحة ، فصل في البیع)
ما في ’’الشامیة ‘‘: بقاعد فقھیة سداً للذرائع :’’ ما کان سبباً لمحظور فھو محظور ‘‘۔(۲۲۳/۵، نعمانیه)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: ’’وکل ما أدی إلی ما لا یجوز لا یجوز ‘‘۔ (۴۳۲/۹)
(فتاوی یوسفیه:۱/۳۱۳، فتاوی محمودیه:۱۹/۳۸۸)
