مسئلہ:
آج کل خواتین جن برقعوں اور حجابوں کو استعمال کررہی ہیں، ہم اُن سے اچھی طرح واقف ہیں، رنگ برنگ نَگوں سے سجائے ہوئے، عمدہ وشاندار کشیدہ کاری کی ہوئی- کہ نہ دیکھنے والا بھی دیکھنے لگ جائے، اس طرح کے برقعے مقصدِ برقع کے خلاف ہیں، کیوں کہ برقع کا مقصد یہ ہے کہ وہ عورت اور اس کی زیب وزینت کی تمام چیزوں کو چھپائے، یہ نہیں کہ برقع خود اس قدر زیب وزینت والا،زرق برق ہو کہ وہ بھی کسی برقع کا محتاج ہو، اس لیے ہم مردوں کو چاہیے کہ اپنی ماوٴں ، بہنوں اور بیویوں کو اس طرح کے برقعوں کے استعمال سے منع کریں، اور سیدھے سادھے برقعوں کے استعمال کی ترغیب دیں، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها النبي قل لأزواجک وبنٰتک ونسآء الموٴمنین یدنین علیهن من جلابیبهنّ﴾ ۔ (سورة الأحزاب :۵۹) وقال تعالی: ﴿ولیضربن بخمرهنّ علی جیوبهنّ ولا یبدین زینتهنّ إلا لبعولتهنّ أو آبائهنّ﴾ ۔ (سورة النور:۳۱)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : ﴿وقرن في بیوتکنّ ولا تبرّجن تبرّج الجاهلیة الأولی﴾ وأن المقصود من الآیة مخالفة من قبلهنّ من المشیة علی تغنیج وتکسیر واظهار المحاسن للرجال إلی غیر ذلک مما لا یجوز شرعًا۔ (۱۸۰/۱۴)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: ”ألا کلکم راع وکلکم مسؤول عن رعیته ، فالإمام الذي علی الناس راع وهو مسؤول عن رعیته والرجل راع علی أهل بیته “ ۔ الحدیث ۔ (ص:۳۲۰، کتاب الامارة والقضاء، الفصل الأول)
