مسئلہ:
اگر کوئی شخص کسی ادارہ یا کمپنی میں ملازم ہو اور ادارہ نے اسے مفوضہ کام کی انجام دہی کے لیے کچھ چیزیں مثلاً فون ، فیکس مشین،زیراکس مشین، سواری اور کمپیوٹر وغیرہ دے رکھا ہو، تو یہ چیزیں بطورِ امانت اس کی تحویل میں ہوگی ، اس لیے اپنی ذاتی ضرورتوں میں ان کا استعمال خیانت ہوگا ، جو شرعاً ناجائز وحرام ہے، لہذا اس سے بچنا واجب ہے ، ہاں اگر کمپنی یا ادارہ اپنی ذاتی ضرورتوں میں استعمال کی اجازت دے تو جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {یآیها الذین آمنوا لا تخونوا الله والرسول وتخونوا أماناتکم وأنتم تعلمون} ۔ (سورة الأنفال:۲۷)
ما في ’’صحیح البخاري‘‘ :’’ آیة المنافق ثلاث : إذا حدث کذب وإذا وعد أخلف وإذا اؤتمن خان ‘‘۔(۱۰/۱، کتاب الإیمان ، علامة المنافق)
ما في ’’ الموسوعة الفقهیة ‘‘:خیانة الأمانة حرام لقوله تعالی : {یآیها الذین آمنوا لا تخونوا الله والرسول}۔(۱۸۵/۲۰، الزواجر عن اقتراف الکبائر:۵۱۳/۲)
ما في ’’ جمهرة القواعد الفقهیة ‘‘ : ’’ التصرف في مال الغیر بغیر إذن حرام ‘‘ ۔(۶۸۸/۲، رقم القاعدة :۶۰۲)
ما في ’’ الشامیة ‘‘: بقاعدة فقهیة سداً للذرائع: ’’ ما کان سبباً لمحظور فهو محظور ‘‘ ۔(۳۲۲/۵ ، مکتبه نعمانیه)
