مسئلہ:
آج کل بعض کمپنیاں تعلیم کے نام پرغریبوں او رمفلسوں کا خون چوس رہی ہیں ،مثلاً:ایک کمپنی ہے جس نے کمپیوٹر تعلیم کیلئے ایسی سی ڈی (C-D)تیار کی ہے جوستاون( 57) کورسیس پرمشتمل ہے ،یہ ستاون کورسیس اگرکسی کالج یاتعلیمی ادارے میں حاصل کرنے ہو ں تو ان کی فیس لاکھوں تک پہونچتی ہے ،لیکن اگر کوئی آدمی ساڑھے سات ہزار روپئے دے کر،اس کمپنی کا ممبر بن جاتاہے تو کمپنی یہ پورے ستاون(57)کورسیس اسے صرف ساڑھے سات ہزار روپئے میں سکھادے گی ، ممبر کے لئے سال میں تین کورسیس میں کامیاب ہونے پر کمپنی کی طرف سے یہ انعام ہوتاہے ،کہ اگر وہ دوممبر اس کمپنی کے بنادے جس کی مالیت پندرہ ہزار(15000 ) روپئے ہوتی ہے تو کمپنی اسے اس پندرہ ہزار (15000) میں سے دوہزار(2000) روپئے بطورِاجرت دے گی، شرعاً یہ صورت منع ہے، کیونکہ اس صورت میں اجیر کے عمل سے حاصل ہونے والی رقم ہی کا ایک جزء اس کی اجرت قرار دیاگیا جوشرعاً ناجائز ہے (۱)،نیز اس میں غرر بھی ہے ،وہ اس طرح کہ اگر صرف ایک ممبر بنایا تو کوئی معاوضہ نہیں ، اور اگر تین ممبر بنائے تو صرف دوپر اجرت دی جائے گی تیسرے پرنہیں، جب کہ آپ ﷺ نے غرر اور نجش سے منع فرمایا(۲)، نیز اس طرح کی کمپنیوں کے قیام کا مقصد، اور ان کی ممبر شپ حاصل کرنے کی غرض تعلیم کو فروغ دینایا حاصل کرنا نہیں بلکہ پیسہ کمانا ہے، ویسے تو پیسہ کمانا فی نفسہ ممنوع نہیں ، لیکن شریعت نے اسے حاصل کرنے کے بھی کچھ اصول وضوابط متعین کئے ،اگر ان اصول وضوابط کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو بنگاہِ شرع یہ اکلِ ا موال بالباطل میں داخل ہوکر حرام ہوتاہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” سنن الدار قطني “ : عن أبي سعیدٍ الخدري قال : ” نهی عن عسب الفحل وعن قفیز الطحان“ ۔
(۴۲/۳ ، رقم الحدیث :۲۹۶۶ ، السنن الکبریٰ للبیهقي :۵۵۶/۵ ، رقم الحدیث : ۱۰۸۵۴ ، نصب الرایة للزیلعي :۳۳۴/۴)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو دفع غزلا لاٰخر لینسجه له بنصفه ، أي بنصف الغزل أو استأجر بغلا لیحمل طعامه ببعضه ، أو ثورًا لیطحن بره ببعض دقیقه فسدت في الکل ، لأنه استأجره بجزء من عمله ، والحاصل في ذلک نهیه ﷺ عن قفیز الطحان ۔ ” الدر المختار“ ۔
(۷۸/۹ ، ۷۹ ، باب الإجارة الفاسدة ، مجمع الأنهر شرح ملتقی الأبحر :۵۳۹/۳ ، کتاب الإجارة ، تبیین الحقائق :۱۲۷/۶ ، ۱۲۸ ، باب الإجارة الفاسدة ، الفتاویٰ الهندیة :۴۴۴/۴ ، الفصل الثالث في قفیز الطحان)
(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة قال : ” نهیٰ رسول الله ﷺ عن بیع الحصاة وعن بیع الغرر “ ۔
(۲/۲ ، کتاب البیوع ، جامع الترمذي :۳۳۳/۱ ، باب ما جاء في کراهیة بیع الغرر)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : الغرر ما یکون مستور العاقبة ۔ (۱۹۴/۱۲)
ما في ” بدائع الصنائع “ : الغرر هو الخطر الذي استوی فیه طرف الوجود والعدم بمنزلة الشک ۔ (۱۶۳/۵)
ما في ” سنن النسائي “ : عن نافع عن ابن عمر : ” أن رسول الله ﷺ نهیٰ عن النجش “ ۔
(۱۴/۴، رقم الحدیث :۶۰۹۶ ، الصحیح لمسلم :۳/۲ ، کتاب البیوع ، باب تحریم بیع الرجل ۔۔۔۔۔ وتحریم النجش)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)
ما في ” البحر المحیط “ : قال أبوحیان رحمه الله تعالی : والباطل هو کل طریق لم تبحه الشریعة ، فیدخل فیه السرقة والخیانة والغصب والقمار وعقود الربا وأثمان البیاعات الفاسدة ۔ (۳۲۲/۳)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبو بکر الجصاص : قد انتظم هذا العموم النهي عن أکل مال الغیر بالباطل وأکل مال نفسه بالباطل ، قد قیل فیه وجهان : أحدهما ما قال السدی : وهو أن یأکل بالربا والقمار والبخس والظلم ؛ وقال ابن عباس والحسن : أن یأکله بغیر عوض ۔ (۲۱۶/۲ ، ۲۱۷)
