کَیفِیَن والی چائے، کافی اور کولڈرنکس کا استعمال

مسئلہ:

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کَیفِیَن جو کہ چائے، کافی اور کچھ کولڈرنکس جیسے پیپسی وغیرہ میں پائی جاتی ہے، وہ ڈَرْگ یعنی نشہ ہے، اور جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ طاری کرتی ہے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے، اس لیے ان چیزوں کا استعمال درست نہیں ہونا چاہیے، اُن کی یہ بات صحیح نہیں ہے، صحیح بات یہ ہے کہ کَیفِیَن میں محض تنشیط یعنی چستی پیدا کرنا ہے، وہ مُسکر یعنی نشہ آور نہیں ہے، اور مشاہَدہ بھی یہی ہے کہ بے شمار لوگ چائے، کافی پیتے ہیں، اور بہت سے لوگ زیادہ مقدار میں بھی پیتے ہیں، لیکن نشہ کسی کو بھی نہیں چڑھتا، اس لیے محض کَیفِیَن کی وجہ سے چائے ، کافی وغیرہ کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا، اور نہ ہی کَیفِیَن حدیث پاک” کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ “ (ہر نشہ آور چیز حرام ہے) کا مصداق بنے گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” صحیح مسلم “ :عن ابن عمر قال:قال رسول الله ﷺ:”کل مسکر خمر،وکل مسکر حرام، ومن شرب الخمر في الدنیا فمات وهو یُدمِنها لم یتب ، لم یشربها في الآخرة“۔

(۱۶۷/۲، کتاب الأشربة، باب بیان أن کل مسکر خمر وأن کل خمر حرام، رقم: ۲۰۰۳، سنن أبي داود: ص/۵۱۸، کتاب الأشربة، باب ما جاء في السکر، رقم:۳۶۷۹)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ان ما ثبت بیقین لا یرتفع بالشک، وما ثبت بیقین لا یرتفع إلا بیقین۔ (۲۸۹/۴۵، یقین)

ما في ” قواعد الفقه “ : الأصل في الأشیاه الإباحة۔ (ص:۵۹، الأشباه والنظائر لإبن نجیم:۲۵۲/۱، رقم التفریع:۴۳۸، الموسوعة الفقهیة:۱۳۰/۱)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۵۰۰۷۵)

اوپر تک سکرول کریں۔