مسئلہ:
بہت سے حضرات کھانے کے درمیان گفتگوکرنے کو خلافِ ادب وسنت سمجھتے ہیں،جب کہ بالکل خاموش رہنے کو فقہاء کرام نے مکروہ قرار دیاہے ،کیونکہ یہ مجوسیوں کی عادت ہے ، اس لیے اس تشبہ سے بچنے کے لئے کھانے کے دوران نیکی اوربھلائی کی بات کرے ، لیکن اس کی یہ مراد ہر گزنہیں کہ اتنے زور زور سے نیکی اور بھلائی کی بات کرے جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچے، کیونکہ اس قدر بلندآواز سے گفتگو کرنا جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے شرعاًمنع ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ الشامیة ‘‘ : یکره السکوت حالة الأکل لأنه تشبه بالمجوس ویتکلم بالمعروف ۔(۴۱۳/۹ ،کتاب الحظر والإباحة)
ما في’’الھندیة ‘‘:یکره السکوت حالة الأکل لأنه تشبه بالمجوس ولا یسکت علی الطعام ولکن یتکلم بالمعروف أو حکایات الصالحین۔
(۳۴۵/۵ :کتاب الکراهیة، الهدایا والضیافة)
وما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {واقصد في مشیک واغضض من صوتک إن أنکر الأصوات لصوت الحمیر} ۔ (سورة لقمان :۱۹)
وما في ’’ أحکام القرآن للجصاص‘‘ : فیه أمر بخفض الصوت لأنه أقرب إلی التواضع ۔ (۴۵۹/۳)
ما في’’ القواعد الکلیة والضوابط الفقهیة ‘‘ : بقاعدة فقهیة : ’’ الضرر لا یزال بمثله ‘‘۔ (ص:۱۸۵)
