کھیل کے جواز وعدمِ جواز کے چند اصول

مسئلہ :

شریعتِ اسلامیہ میں وقت کی حفاظت اور بامقصد زندگی کے قیام کا حکم دیا گیا، لہو ولعب اور لغو کی ممانعت کی گئی، ممانعت کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ تفریح کی بھی ممانعت ہے ، بلکہ شرعاً ایک حد تک مستحسن ومطلوب ہے ، تاکہ اس تفریح کے ذریعے جسم وروح کی سستی دور ہوکر طبیعت میں نشاط وچستی، حوصلہ وہمت پید ا ہو، اور انسان مکمل طور پر زندگی کے اعلیٰ مقصد عبادت کی طرف متوجہ ہوسکے ، لہذا تفریحی کھیل کود کے سلسلے میں فقہاء وعلماء نے قرآن وحدیث سے چند ضوابط اخذکئے ہیں۔

۱…ایسا کھیل جس میں دینی ودنیوی کوئی مصلحت ومقصد نہ ہو، نہ اس کی غرض ، غرضِ صحیح ہو، بلکہ محض وقت گذاری ہو تو ایسا کھیل ناجائز ہے۔

۲…ایسا کھیل جس میں کوئی مصلحت وغرضِ دینی یا دنیوی تو ہو مگر اس کی ممانعت کتاب اللہ ، سنتِ رسول اللہ سے ثابت ہو، تو وہ بھی ناجائز ہے۔

۳…ایسا کھیل جس میں لوگوں کے لیے مصلحت وفوائد تو ہوں ، مگر تجربہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہوکہ اس کے نقصانات فوائد سے زیادہ ہیں، اور ان کا کھیلنا انسان کو اللہ کی یاد، نمازاور فرائضِ شرعیہ سے غافل کرد یتا ہے، تو یہ کھیل بھی ناجائز ہے۔

۴… ایسا کھیل جس کا مقصد دینی یا دنیوی مصلحت وفوائد کو حاصل کرنا ہو تو مباح ہے، بشرطیکہ یہ کھیل کفار وفساق کا شعار نہ ہواور اس میں ہارجیت پر مال کی شرط نہ ہو۔

الحجة علی ما قلنا

ما في’’ تکملة فتح الملهم ‘‘ : اعلم أن الشریعة المصطفویة السمحة البیضاء لا تمنع الارتفاقات والمصالح التي فطرت علیها الطبیعة البشریة ولا ترتضي الرهبانیة والتبتل بل تقتضي المدنیة والمعاشرة الصالحة ۔۔۔۔۔۔ ومن المعلوم أن من الحاجة المفطور علیها الإنسان تمرین البدن وترویح القلب وتفریحه ساعة فساعة ومن هنا قال علیه الصلاة والسلام : ’’ روحوا القلوب ساعة فساعة  ‘‘۔ [أخرجه أبوداود في مراسیله] ۔۔۔۔۔۔۔ وحاصل الکلام أن ترویح القلب وتفریحه وکذا تمرین البدن من الارتفاقات المباحة والمصالح البشریة التي لا تمنعها الشریعة السمحة برأسها ۔ نعم ۔ تمنع الغلو والانهماک فیها بحیث یضر بالمعاش أو المعاد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالضابط في هذا الباب عند مشایخنا الحنفیة المستفاد من أصولهم وأقوالهم :۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته ولیس له غرض صحیح مفید في المعاش ولا المعاد حرام أو مکروه تحریماً ۔ وهذا أمر مجمع علیه في الأمة متفق علیه بین الأئمة ۔۔۔۔۔ وما کان فیه غرض ومصلحة دینیة أو دنیویة فإن ورد النهي عنه من الکتاب أو السنة [کما في النرد شیر] کان حراماً أو مکروهاً تحریماً ۔۔۔ وألفیت تلک المصلحة والغرض لمعارضتها للنهي الماثور حکماً بأن ضرره أعظم من نفعه ۔ وهذا أیضاً متفق علیه بین الأئمة ۔۔۔۔ وأما ما لم یرد فیه النهي عن الشارع وفیه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي علی نوعین : الأول : ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه ومفاسده أغلب علی منافعه وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذکر الله وحده وعن الصلوات والمساجد التحق ذلک بالمنهي عنه لاشتراکالعلة فکان حراماً أو مکروهاً۔ والثاني : ما لیس کذلک فهو أیضاً إن اشتغل به بنیة التلهي والتلاعب فهو مکروه وإن اشتغل به لتحصیل تلک المنفعة وبنیة استجلاب المصلحة فهو مباح بل قد یرتقي إلی درجة الاستحباب أو أعظم منه ۔

(۴۳۴/۴ ،کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالنرد شیر ، حکم الألعاب في الشریعة ، أحکام القرآن للتھانوي :۱۹۹/۳، ۲۰۰ ، ۲۰۱، سورة لقمان:۶)

(معارف القرآن:۲۳/۷، کھیل کود اور تفریح کی شرعی حیثیت :ص:۱۳)

اوپر تک سکرول کریں۔