کیا حج کیلئے رشوت دے سکتے ہیں ؟

مسئلہ:

اگر کسی شخص پر حج فرض ہو چکا ہے اور اس نے اس فرض کی ادائیگی کیلئے حج کمیٹی میں درخواست بھی دے رکھی تھی ،مگر جب حج کمیٹی نے قرعہ اندازی کی اور ناموں کا اعلان کیا تو اس میں اس کا نام نہیں نکلا، لیکن اگر یہ شخص دس پندرہ ہزار روپیہ بطورِ رشوت دیدے تواس سال اس کے جانے کا انتظام ہوسکتا ہے ،تو اس کیلئے یہ زائد رقم بطورِ رشوت دینا جائز نہیں ہے،کیوں کہ حج جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی کیلئے رشوت کا یہ لین دین کسی بھی قیمت پر جائز نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ جو شخص تندرست اور صاحبِ حیثیت ہے وہ آئندہ جاسکتے ہیں، بظاہر جلد بازی کی انہیں کوئی ضرورت نہیں۔

ہاں ایسا ضعیف آدمی جو اگلے سال تک اور کمزور ہوجائے گا،یا یہ اندیشہ ہوکہ آئندہ رقم خرچ ہوجائیگی یا کم ہو جا ئے کہ جانا ہی ممکن نہ رہے، تو اس کیلئے رشوت دے کر اپنے نام کو داخل کرانے کی گنجائش ہوسکتی ہے، مگر رشوت لینے والے کیلئے ہر حال میں رشوت لینا حرام ہے ۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا إلی الحکام لتأکلوا فریقامن أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون} ۔ (سورة البقرة:۱۸۸)

ما في ’’السنن للترمذي‘‘: ’’ لعن رسول اللهﷺالراشي والمرتشي‘‘ ۔(۳۳۵/۳ ،کتاب الأحکام، باب ماجاء في الراشي والمرتشي)

ما في ’’حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح‘‘: وشرط وجوب الأداء صحة البدن وزوال المانع الحسي عن الذھاب،کالحبس ، وکذا یشترط أن لا یکون خائفاً من سلطان یمنعه۔(ص: ۷۲۸، الشامیة : ۳۳/۸،کتاب القضاء، مطلب في الکلام علی الرشوة والھدیة)

ما في ’’الأشباه والنظائر‘‘: ’’الضرورات تبیح المحظورات‘‘ ۔ (۳۰۷/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔