مسئلہ:
دسویں ذی الحجہ سے بارہویں ذی الحجہ تک جس طرح دن میں قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے، اسی طرح درمیان کی دو راتوں میں بھی قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہے، مگر مکروہ ہے، اور اس کراہت کی علت رات کی تاریکی میں مطلوبہ رگوں میں سے کسی رگ کے نہ کٹنے یا مقدار ذبح سے زائد کٹ جانے کا اندیشہ ہے، لیکن اگر رات کو ایسی معقول روشنی کا انتظام ہو کہ اس طرح کا شبہ واندیشہ نہ رہے، تو یہ کراہت باقی نہیں رہے گی، اور رات میں بھی بلا کراہت قربانی کے جانور کو ذبح کرنا جائز ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه “ : وکره تنزیهاً الذبح لیلاً لاحتمال الغلط۔” الدر المختار“۔ قوله : (لیلاً) أي فی اللیلتین المتوسطتین لا الأولی ولا الرابعة، إذ لا تصح فیهما الأضحیة أصلاً کما هو الظاهر۔ (۳۸۸/۹، کتاب الأضحیة)
ما فی ” البحر الرائق “ : ووقتها ثلاثة أیام: أولها أفضلها، ویجوز الذبح فی لیالها إلا أنه یکره لاحتمال الغلط فی الظلمة۔ (۳۲۲/۸، کتاب الأضحیة)
ما فی ” بدائع الصنائع “ : ویجوز الذبح فی أیام النحر نهارها ولیالیها وهما لیلتان، لیلة الیوم الثانی وهو لیلة الحادی عشر، ولیلة الیوم الثالث وهی لیلة الثانی عشر، ولایدخل فیها لیلة العاشر من ذی الحجة۔(۲۱۳/۴۔۲۱۴، کتاب الأضحیة، حکم الذبح والإمام فی خلال الصلاة)
ما فی” الموسوعة الفقهیة “ : ان التضحیة فی اللیالی المتوسطة تجزئ مع الکراهة، لأن الذابح قد یخطئ المذبح ، وإلیه ذهب إسحاق وأبوثور والجمهور۔ (۹۳/۵، أضحیة)
ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : والمستحب ذبحها بالنهار دون اللیل لأنه أمکن لاستیفاء العروق، کذا فی الجوهرة النیرة۔(۲۹۶/۵، کتاب الأضحیة، الباب الثالث فی وقت الأضحیة)
ما فی ” المبسوط للسرخسي“ : ویجزیه الذبح فی لیالیها إلا أنهم کرهوا الذبح فی اللیالی، لأنه لا یأمن أن یغلط فتفسد الظلمة اللیل، ولکن هذا لا یمنع الجواز۔
(۲۴/۱۲، باب الأضحیة)
ما فی ” الموٴطا للإمام مالک “ : عن نافع أن عبد الله بن عمر رضی الله عنه قال: ”الأضحی یومان بعد یوم الأضحی “۔ (ص:۱۸۸)
ما فی ” القواعد الفقهیة “ : بقاعدة فقهیة : الحکم إذا ثبت بعلة زال بزوالها۔ (ص:۱۷۰)
(احسن الفتاوی:۵۱۰/۷، فتاوی حقانیه:۴۹۰/۶،کتاب الفتاوی :۱۶۳/۴، قربانی کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا:ص۸۷)
