کیا عورتوں کے دودھ کی خریدوفروخت جائز ہے؟

مسئلہ:

آج کل یورپ میں انسانی خون کی طرح عورتوں کا دودھ بھی بینکوں میں جمع کیا جانے لگا ہے، جس میں عورتوں کا دودھ خرید کر اختلاط کرکے عموماً اس کا پاوٴڈر بنالیا جاتاہے، بعض مسلمان یہ دودھ پاوٴڈر(Milk Powder)خریدکر، اپنے بچوں کی غذا کے لیے استعمال کرتے ہیں،جب کہ اولاً تو انسانی دودھ کی خرید وفروخت ہی جائز نہیں، کیوں کہ انسانی دودھ انسان کا جز وہے، اور انسان اپنے جمیع اجزاء کے ساتھ مکرم ومحترم ہے، نیز یہ ماننا بھی بڑا مشکل امر ہے کہ کس نے کونسی عورت کا دودھ خریدا، اور کس بچہ کو پلایا؟کیوں کہ رضاعت سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوتی ہے، اور نکاح کا فساد لازم آتاہے، اس لیے عورتوں کے دودھ کی خرید وفروخت کی یہ صورت شرعاً ناجائز وحرام ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : قوله تعالی : ﴿ولقد کرّمنا بني اٰدم وحملنٰهم في البرّ والبحر ورزقنٰهم من الطیبٰت وفضلنٰهم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا﴾ ۔ (سورة الإسراء :۷۰)

ما في ” فتح القدیر لإبن الهمام “ : ولا یجوز بیع شعور الإنسان ، ولا الانتفاع بها ، لأن الاٰدمي مکرم لا مبتذل ، فلا یجوز أن یکون شيء من أجزائه مهانًا ومبتذلا ۔

(۳۹۰/۶ ،۳۹۱ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد)

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (وشعر الإنسان) لکرامة الآدمي ولوکافرًا ، ذکره المصنف وغیره في بحث شعر الخنزیر اه ۔ ” الدر المختار “ ۔ وفي الشامیة : قوله : (ذکره المصنف) حیث قال : والآدمي مکرم شرعًا وإن کان کافرًا ، فإیراد العقد علیه وابتذاله به وإلحاقه بالجمادات إذلال له اه ۔ أي وهو غیر جائز وبعضه في حکمه ، وصرح في فتح القدیر ببطلانه ۔(۲۴۵/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب : الآدمي مکرم شرعًا ولوکافرًا)

ما في ” الهندیة “ : الانتفاع بأجزاء الآدمي لم یجز ، قیل : للنجاسة ، وقیل : للکرامة ، هو الصحیح ۔ کذا في جواهر الأخلاطي ۔

(۳۵۴/۵ ، کتاب الکراهیة ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد)

ما في ” قواعد الفقه “ : ” درء المفاسد أولی من جلب المنافع “ ۔(ص/۸۱ ، رقم القاعدة :۱۳۳ ، الأشباه والنظائر لإبن نجیم :ص/۷۸)

ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرما ، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبا ۔ (ص/۴۶)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : فإذا تعارضت مفسدة ومصلحة قدم دفع المفسدة غالبًا ، لأن اعتناء الشرع بالمنهیات أشد من اعتنائه بالمأمورات ، ولذا قال علیه السلام : ” إذا أمرتکم بشيء فأتوا منه ما استطعتم ، وإذا نهیتکم عن شيء فاجتنبوه “ ۔ (ص/۷۸ )

اوپر تک سکرول کریں۔