(فتویٰ نمبر: ۷۸)
سوال:
مرد نے غصے میں عورت کو دو طلاقیں دی، جس پر دو گواہ بھی موجود ہیں، جب کہ عورت کہتی ہے کہ اس نے تین طلاقیں دی، اب اس صورت میں مرد کا قول معتبر ہوگا یا عورت کا ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
صورتِ مسئولہ میں جب مرد یہ کہتا ہے کہ اس نے صرف دو طلاقیں دی ہے ، اور اس کے پاس اس پر دو گواہ بھی موجود ہیں، تو شوہر کا قول معتبرہوگا اور اسے عدت کے اندر اپنی بیوی کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ،اور اگر عدت گزرگئی ہو اور زوجین ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، تو نکاحِ جدید بمہرِ جدید کرنا ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الهدایة “ : إذا طلق الرجل امرأته تطلیقة رجعیة، أو تطلیقتین، فله أن یراجعها في العدة، رضیت بذلک أو لم ترض، لقوله تعالی : ﴿فأمسکوهن بمعروف﴾ من غیر فصل ۔(۳۷۳/۲، کتاب الطلاق ، باب الرجعة ، الفتاوی الهندیة :۴۷۰/۱ ، الباب السادس في الرجعة)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : إذا کان الطلاق بائنًا دون الثلاث ، فله أن یتزوجها في العدة وبعد انقضائها ۔
(۴۷۲/۱ ، فصل فیما تحل به المطلقة وما یتصل به ، کذا في رد المحتار: ۴۰/۵ ، باب الرجعة)
ما في ” مجمع الأنهر “ : هي استدامة النکاح القائم في العدة ، فمن طلق دون الثلاث ۔ قوله : (في العدة) لأن الملک باق في العدة زائل بعد انقضائها ۔
(۷۹/۲ ، کتاب الطلاق ، باب الرجعة)
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : ثم الدعوی الصحیحة لا توجب استحقاق المدعي للمدعی بنفسها، فإن النبي ﷺ قال : ” لو أعطی الناس بدعواهم لادعی قوم دماء قوم وأموالهم ، لکن البینة علی المدعي والیمین علی المدعی علیه “ ۔ (۳۶/۱۷ ، کتاب الدعوی ، ط : دار المعرفة بیروت)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : (ویسأل القاضي علی المدعی علیه) عن الدعوی ، فیقول : إنه ادعی علیک کذا ، فماذا تقول (بعد صحتها وإلا) تصدر صحیحة (لا) یسأل لعدم وجوب جوابه ، (فإن أقر) فیها (أو أنکر ، فبرهن المدعي قضی علیه) بلا طلب المدعي (وإلا) یبرهن (حلفه) الحاکم (بعد طلبه)۔(۲۹۳/۸ ، ۲۹۴ ، کتاب الدعوی)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۲۶۹/۹،کتاب الطلاق،کفایت المفتی: ۳۸۲/۵،کتاب الطلاق) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۵/۲۱ھ
الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۵/۲۱ھ
