گاڑیوں کی پلیٹ نمبر اور موبائل سم کارڈ کے لیے ۳۱۳ کے عددکا انتخاب

مسئلہ:

حضراتِ علماء کرام نے اسماء بدریین کے ذکر کے بعد دعا کے قبول ہونے کی صراحت فرمائی ہے، مگر یہ بات تجربہ سے ثابت ہے ، نص سے نہیں(۱)، نیز قبولیتِ دعا اور حصولِ برکت کا یہ تجربہ اسماء بدریین کے ذکر پر ہے، نہ کہ محض ان کے عدد ” ۳۱۳“ کے ذکر یا لکھنے پر، اس لیے کہ نفسِ عدد ”۳۱۳“ کو ان کے اسماء سے کوئی مناسبت نہیں ہے، بلکہ یہ غزوہٴ بدر میں شریک حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا مجموعی عدد ہے،جب کہ آج کل بہت سے لوگ اس عدد کو بطورِ تبرّک اپنی گاڑیوں کے نمبر پلیٹ یا موبائل کے سِم کارڈ (Sim Card) نمبر وغیرہ کے لیے منتخب کرتے ہیں، تو ان کا یہ عمل باعتقادِ تبرّک درست نہیں، ہاں! اگر اس اعتقاد کے بغیر محض اپنی طبعی پسند کی وجہ سے انتخاب کرتے ہوں ، تو پھر اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہونا چاہیے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” لامع الدَّراري علی جامع البخاري “ :وقد تقدم ما قال الزرقاني قال العلامة الدّواني:سمعنامن مشائخ الحدیث أن الدعاءعند ذکرهم في البخاري مستجاب وقدجرب۔(۱۲۳/۳،کتاب المغازي، المکتبة الأشرفیة دیوبند،کذا في شرح الزرقاني:۴۰۹/۱،بحواله سیرة المصطفی ﷺ: ۱۳۶/۲،کشف الباري شرح البخاري:ص/۱۷۸،کتاب المغازي)

(۲) ما في ” غمز عیون البصائر شرح الأشباه والنظائر “ : قوله: (الأصل في الأشیاء الإباحة) ذکر العلامة قاسم بن قطلوبغا في بعض تعالیقه أن المختار أن الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا، وقیده فخر الإسلام بزمن الفترة فقال: إن الناس لن یترکوا سدًی في شيء من الأزمان، وانما هذا بناء علی زمن الفترة لاختلاف الشرائع ووقوع التحریفات، فلم یبق الاعتقاد والوثوق علی شيء من الشرائع، فظهرت الإباحة بمعنی عدم العقاب بما لم یوجد له محرم ولا مبیح۔ انتهی۔ ودلیل هذا القول قوله تعالی: ﴿خلق لکم ما في الأرض جمیعًا﴾ أخبر بأنه خلقه لنا علی وجه المنة علینا، وأبلغ وجوه المنة وإطلاق الانتفاع، فتثبت الإباحة۔ (۲۲۳/۱۔۲۲۴)

اوپر تک سکرول کریں۔