گاڑی والوں کا چھوٹے اور بڑے بچوں سے یکساں کرایہ اور بقایا رقم خود رکھ لینا شرعاً کیسا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۱۷۹)

سوال:

۱– جامعہ کے کچھ طلبہ گھر جانے کے لیے پرائیویٹ گاڑیاں کرتے ہیں، اور اس میں طے یہ کرتے ہیں کہ چھوٹے اور بڑے بچوں کا کرایہ ایک ہی جیسا ہو، جب کہ سرکار ی بس (S.T) میں یہ نظام ہے کہ ۱۲/ سال سے کم عمر والوں کا نصف کرایہ لگتا ہے، اور ۱۲/ سال کے بعد فل کرایہ لگتا ہے، مثلاً: اورنگ آباد جانے کے لیے سرکاری گاڑی سے فل کرایہ 200 /روپے اور نصف کرایہ 100/ روپے لگتا ہے، لیکن جامعہ کے کچھ طلبہ نے اورنگ آباد جانے کے لیے گاڑیاں کی، جس میں وہ ہر ایک سے 150/ روپے لیتے ہیں، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، تو کیا اس طرح کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

۲– زید نے گاڑی کی اور اس میں دوسروں سے اتنا کرایہ لیا کہ گاڑی کا کرایہ ادا کرنے کے بعد بھی کچھ رقم بچ گئی، تو اب یہ رقم سب میں تقسیم کی جائے گی یا تنہا زیدہی رکھ لے گا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– اگر یہ عقدِ اجارہ صبی ممیز،یا اس کا سرپرست طالبِ علم اس کی طرف سے کرے، تو شرعاً درست ہے۔(۱)

۲– زید کا یہ اجارہ ، اجارہ ٴثانیہ ہے ، اور احناف کے نزدیک جب اجارہٴ ثانیہ واجارہٴ اولیٰ دونوں میں اجرت ہم جنس ہو، تو اجارہٴ اولیٰ کی اجرت پر زیادتی جائز نہیں ہوتی، اس لیے جواجرت اجارہٴ اولیٰ کی اجرت سے زائد ہے اس کا تصدق واجب ہوتا ہے، مگر چوں کہ یہاں رقم دینے والے (طلبہ) معلوم ہیں، اس لیے رقم ان کو واپس کردی جائے۔(۲)

لیکن اگر زید ان طلبہ کا وکیل بن کر گاڑی کرایہ پر لیتا ہے، اور پہلے سے اپنی اجرت بھی متعین کرلیتا ہے، تو اس صورت میں زیداپنی متعین اجرت لینے کا حق دار ہوگا ، نہ کہ پوری باقی ماندہ رقم کا۔ (۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : وإجارة من له الولایة علی الصبي نفس الصبي أو ماله نافذة، لوجود الإنابة من الشرع ۔ (۲۵۸/۱)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإجارة الوکیل نافذة لوجود الولایة ، وکذلک الإجارة من الأب والوصي والقاضي وأمینه نافذة لوجود الإنابة من الشرع ۔

(۴۱۱/۴، مطلب أنواع الإجارة)

(۲) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : وذهب الحنفیة إلی جواز الإجارة الثانیة إن لم تکن الأجرة فیها من جنس الأجرة الأولٰی، للمعنی السابق، أما إن اتحد جنس الأجرتین فإن الزیادة لا تطیب للمستأجر، وعلیه أن یتصدق، وصحت الإجارة الثانیة؛ لأن الفضل فیه شبهة ۔(۲۶۸/۱)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإذا استأجر دارًا وقبضها ثم آجرها، فإنه یجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأکثر مما استأجرها فهي جائزة أیضًا، إلا أنه إن کانت الأجرة الثانیة من جنس الأجرة الأولٰی، فإن الزیادة لا تطیب له ویتصدق بها، وإن کانت من خلاف جنسها طابت له الزیادة ۔ (۴۲۵/۴ ، في إجارة المستأجر)

(۳) ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : تصح الوکالة بأجر وبغیر أجر ؛ لأن النبي ﷺ کان یبعث عماله لقبض الصدقات ویجعل لهم عمولة ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولأن الوکالة عقد جائز لا یجب علی الوکیل القیام بها، فیجوز أخذ الأجرة فیها ۔ (۴۰۵۸/۵) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔