مسئلہ:
لقطہ یعنی گری پڑی چیز کسی شخص کا وہ کھویا ہوامال ہے جسے کوئی اور شخص اٹھالے (۱)، لقطہ کااٹھانا کبھی مستحب ہوتاہے کبھی مباح اورکبھی حرام، اگر اندیشہ ہوکہ نہ اٹھانے کی صورت میں وہ سامان ضائع ہوجائے گا تو اصل مالک تک پہنچانے کی نیت سے اسے اٹھا لینا مستحب ہے (۲)، بلکہ شوافع کے نزدیک واجب ہے(۳) ، اگرضیاع کااندیشہ نہ ہوتواس کا اٹھانا مباح ہے ، اور اس نیت سے اٹھاناکہ وہ خود رکھ لے گا اصل مالک تک نہ پہنچائے گاتو یہ حرام ہے ، کیوں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ”لقطہ یعنی گری پڑی چیز اٹھانااس کے لیے حلال ہے جو اعلان کا ارادہ رکھتاہو“۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (اللقطة) هي رفع شيء ضائع للحفظ علی الغیر لا للتملیک ۔ ” الدر المختار “ ۔ (۴۳۱/۶ – ۴۳۳ ، کتاب اللقطة)
ما في ” المغني “ : (اللقطة) وهي المال الضائع من ربه یلتقط غیره ۔ (۴۱۳/۵)
(۲) ما في ” فتاوی قاضی خان علی هامش الهندیة “ : اللقطة علی وجهین : إن خاف ضیاعها یفترض دفعها وإلا یباح ، أجمع العلماء علیه ۔ (۲۱۹/۶ ، کتاب اللقطة)
(۳) ما في ” المهذب “ : والثاني یجب لما روی ابن مسعود رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال : ” حرمة مال الموٴمن کحرمة دمه “ ۔ ولو خاف علی نفسه لوجب حفظها فکذلک إذا خاف علی ماله ۔ (۳۰۳/۲)
(۴) ما في ” بدائع الصنائع “ : ولنا ما روي عن رسول الله ﷺ قال : ” لا تحل اللقطة ، فمن التقط شیئًا فلیعرّفه سنة “ ۔
(۳۳۴/۸ ، کتاب اللقطة ، فصل في بیان ما یصنع باللقطة)
ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۱۳/۱)
