مسئلہ:
دیہات میں عام طور پر غریب وخستہ حال لوگ رہتے ہیں، مکان کا فرش کچا ہوتا ہے، ٹائلس (فرش) لگانے کی استطاعت نہیں ہوتی، اس لیے بہت سے لوگ مٹی کے گارے میں گوبر ملاکر ، یا عینِ گوبر سے اپنے گھروں کو لیپتے ہیں، تو اس طرح گوبر سے لیپی ہوئی خشک جگہ پر پاک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج ومضائقہ نہیں ہے، بلکہ جائز ہے، نماز صحیح ہوجائیگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” الشامیة “ : وکذا الثوب إذا فرش علی النجاسة الیابسة، فإن کان رقیقاً یشف ما تحته أو توجد منه رائحة النجاسة علی تقدیر أن لها رائحة لا تجوز الصلاة علیه، وإن کان غلیظاً بحیث لا یکون کذلک جازت۔(۳۸۷/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب فی التشبه بأهل الکتاب)
ما فی ” مراقی الفلاح “ : ولا ینجس ثوب رطب بنشره علی أرض نجسة ببول أو سرقین، لکنها یابسة، فشدت الأرض من الثوب الرطب، ولم یظهر أثرها فیه۔
(ص:۱۶۴، باب الأنجاس)
(فتاوی محمودیه: ۲۸۶/۵، فتاوی رحیمیه: ۵۱/۴)
