گھنی داڑھی، مونچھ اور بھنووں کی کھال کا وضو میں دھونا

مسئلہ:

اگر کسی شخص کی بھنویں، داڑھی یا مونچھ اس قدر گھنی ہیں کہ اس کے نیچے کی کھال نظر نہ آئے، تو وضو میں اس پوشیدہ وچھپی کھال کا دھونا فرض نہیں ہے، اور اگر بھنویں، داڑھی یا مونچھ اس قدر گھنی نہیں ہے اور اس کے نیچے کی کھال نظر آتی ہے، تو دھونا فرض ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا غسل باطن العینین والأنف والفم وأصول شعر الحاجبین واللحیة والشارب۔ ” الدر المختار “۔ وفی الشامی: قوله: (وأصول شعر الحاجبین) یحمل هذا علی ما إذا کانا کثیفین أما إذا بدت البشرة فیجب، کما یأتی له قریباً عن البرهان، وکذا یقال فی اللحیة والشارب۔

(۲۱۱/۱، أرکان الوضوء، وکذا فی الفتاوی الهندیة: ۴/۱، الفصل الأول فی فرائض الوضوء، الفتاوی التاتارخانیة:۳۹/۱۔۴۰، الفصل الأول فی الوضوء)

ما فی ” الاختیار لتعلیل المختار “ : وسقط غسل باطن العینین لما فیه من المشقة وخوف الضرر بهما۔ (۱۲/۱، کتاب الطهارة)

(فتاوی محمودیه: ۴۲/۵)

اوپر تک سکرول کریں۔