ہاتھ کی لکیروں سے قسمت کی معرفت کرنا شرعاً کیسا ہے؟

مسئلہ:

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہاتھ میں جتنی لکیریں ہوتی ہیں ، اتنی ہی پریشانیاں ہوں گی، اور اگر یہ لکیریں کم ہوں تو پریشانیاں بھی کم ہوتی ہیں، اسی طرح بعض لوگ ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ کر قسمت کا حال بتاتے ہیں، شرعاً یہ غلط اور بے بنیاد ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی تقدیر لکھ کر اسے فرشتوں کے حوالے فرمادیا ہے، یہ قسمت انسان کے ہاتھ یا جسم پر نہیں لکھی جاتی، لہذا لکیروں سے قسمت کا حال معلوم کرنا اورا س پر اعتماد کرنا سخت گناہ اور نا پسندیدہ ہے، نیز ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہے، اسی طرح طبی اور سائنسی اعتبار سے ان لکیروں کا انسانی احوال سے کوئی تعلق نہیں ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے چہرے مہرے، رنگ وروپ، آواز اورچال ڈھال کے اعتبار سے ہر شخص کو دوسرے سے ممتاز بنایا ہے، اسی طرح انگوٹھے اور انگلیوں پر پائی جانیوالی باریک لکیریں اور ہتھیلیوں میں موجود نمایاں لکیریں بھی ایک دوسرے سے ممتاز اور جداگانہ رکھی گئی ہیں، اس سے ہر شخص کی شناخت ، اس کا تشخص متعلق ہے، نہ کہ اس کی تقدیر اور اس کے احوال وواقعاتِ زندگی۔

مت یقیں کر اپنے ہاتھوں کی ان لکیروں پر

قسمت ان کی بھی ہوتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن نافع عن صفیة عن بعض أزواج النبی ﷺ عن النبی ﷺ قال: ” من أتی عرافاً فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة أربعین لیلة “۔

(۲۳۳/۲، کتاب السلام، باب تحریم الکهانة وإتیان الکهانة)

ما فی ” السنن الکبری للبیهقي “ :عن أبی هریرة رضی الله تعالی عنه قال:قال رسول الله ﷺ:”من أتی عرافاً أو کاهناً فصدقه بما یقول،فقد کفر بما أنزل علی محمد ﷺ“۔

(۲۳۳/۸، رقم الحدیث: ۱۶۴۹۶، الجامع الصغیر فی أحادیث البشیر النذیر، رقم الحدیث: ۸۲۸۵)

ما فی ” الصحیح لمسلم “ : عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال:سمعت رسول الله ﷺ یقول:”کتب الله مقادیر الخلائق قبل أن یخلق السماوات والأرض بخمسین ألف سنة“۔

(۳۳۵/۲، کتاب القدر، باب حجاج آدم وموسیٰ علیهما الصلوٰة والسلام)

اوپر تک سکرول کریں۔