ہبہ(Gift) تام ہونے کے لیے قبضہٴ تامہ (Complete Possession)ضروری ہے!

(فتویٰ نمبر: ۶۸)

سوال:

میری والدہ کی عمر ۸۰/ سا ل ہے، انہوں نے اپنے مہر کے پیسوں سے سونے کا ایک زیور بنوایا تھا، ہم سب کل۶/ بھائی اور ایک بہن ہیں،فی الحال میری ماں بہت ضعیف ہے اور قوتِ حافظہ بھی برابر نہیں ہے، تو اُن کے بنائے ہوئے سونے کے زیور میں ہم سب بھائی بہن کا حصہ ہے یا

نہیں؟ یا وہ اپنی مرضی کے مطابق جس کو دینا چاہے دے سکتی ہے؟

میری ماں کی جب حالت اچھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ میں یہ سونے کا زیور میری دونوں نواسیوں (بیٹی کی دونوں لڑکیوں) کودوں گی، تو اب اس زیور کا حق دار کون ہوگا؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر آپ کی والدہ نے اپنے سونے کے زیور اپنی دونوں نواسیوں کو ہبہ(Gift) کردیا اور جداگانہ قبضہ بھی کرادیا، تو اب وہ دونوں نواسیاں اس شئ موہوب (جو چیز ہبہ کی گئی) کی مالک ہوں گی، لیکن صورتِ مسئولہ میں زیور ابھی آپ کی والدہ ہی کے قبضے میں ہیں، نواسیوں کو سپرد نہیں کیاگیا تو یہ ہبہ تام نہیں ہوا، کیوں کہ صحتِ ہبہ کے لیے قبضہٴ تامہComplete) Possession) شرط ہے، اور قبضہٴ تامہ کے لیے موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا) کا قبضہ ضروری ہے اور وہ یہاں مفقود ہے؛ اس لیے ہبہ تام نہیں، اور جب یہ ہبہ ، ہبہٴ تامہ نہیں تو یہ زیور آپ کی والدہ کی ملک ہے، اور جب وہ ان کی ملک ہے تو وہ جس کو چاہے ہبہ کرسکتی ہیں، ہاں! اگر والدہ اپنی حیات میں ہبہ نہ کریں، تو اُن کے انتقال کے بعد جملہ ورثا کو دیگر ترکہ کی طرح حسبِ حصصِ شرعیہ اس زیور میں سے بھی حصہ ملے گا، اور دونوں نواسیاں محروم ہوں گی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتتم الهبة بالقبض الکامل ، ولو الموهوب شاغلا لملک الواهب لا مشغولا به ، والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملک الواهب، منع تمامها وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابًا له فیه طعام الواهب، أو دارًا فیها متاعه أو دابة علیها سرجه وسلمها کذلک لا تصح، وبعکسه تصح ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (وإن شاغلا) ۔۔۔۔۔ تجوز هبة الشاغل لا المشغول ۔(۴۹۳/۸ ، ۴۹۴ ، کتاب الهبة)

(فتاوی قاضي خان علی هامش الفتاوی الهندیة :۲۶۸/۳، کتاب الهبة، فصل في هبة المشاع)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا یتم حکم الهبة إلا مقبوضة ، ویستوي فیه الأجنبي والولد إذا کان بالغًا ۔(۳۷۷/۴ ، الباب الثاني فیما یجوز من الهبة وما لا یجوز) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۲۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔