ہندوستان کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟

مسئلہ:

ہندوستان کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی؟ اس سلسلے میں ہمارے علماء کے مابین اختلاف ہے ۔لیکن صحیح اور مبنی بر احتیاط قول یہ ہے کہ مسلمانوں کی مملوکہ أراضی میں عشر واجب ہے، کیوں کہ عشر میں بنیادی تصور عبادت کا ہے(۱)، اور یہ زکوٰة کی ہی ایک قسم ہے، کیوں کہ دونوں کے مصارف ایک ہی ہیں۔(۲)

اسی لئے مسلمانوں کے حق میں اصل عشر ہے(۳)، اور چونکہ عشرکو ساقط کرنا ایک عبادت کو ساقط کرنا ہے، اس لئے جہاں عشر کے ساقط ہونے کی صراحت اور اس پر کوئی قوی نص موجود نہ ہو، وہاں احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں عشر ہی کے حکم کو باقی رکھا جائے، لہذا ہندوستان کی زمینیں مندرجہ ذیل صورتوں میں بالاتفاق عشری ہیں:

(۱)مسلمان حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو عطا کردہ زمینیں جو اب تک مسلمانوں کے پاس چلی آرہی ہیں وہ عشری ہیں۔(۴)

(۲)جس علاقے کے لوگ مسلم حکومت کے قیام سے پہلے بخوشی مسلمان ہوگئے ہوں اور وہ زمینیں ابھی تک مسلمانوں ہی کے پاس چلی آرہی ہیں وہ عشری ہیں۔(۵)

(۳)جو زمین عرصہٴ دراز سے مسلمانوں کے پاس ہیں، اور تاریخی طور پر ان کا خراجی ہونا ثابت نہیں ہے، وہ بھی عشری ہیں۔(۶)

(چھٹے فقہی سیمینار عمرآباد بتاریخ: ۱۷تا ۰ ۲/ رجب، ۱۴۱۴ھ، مطابق: ۳۱/ دسمبر، ۱۹۹۳ء، تا ۳/ جنوری، ۱۹۹۴ء)میں یہی قرارداد منظور کی گئی ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : (لأنه ألیق بالمسلم) أی لما فیه من معنی العبادة ۔ (۲۱۷/۶، کتاب الجهاد، باب العشر والخراج)

ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : أما العشریة: فهی التی یجب فیها العشر الذی فیه معنی العبادة۔(۱۹۰۱/۳، زکوة الأرض الخراجیة)

ما فی ” الاختیار لتعلیل المختار “ : ولأبی حنیفة أن الأراضی النامیة لاتخلو من العشر أو الخراج، والذمی لیس أهلاً للعشر لأنه معنی العبادة لقوله تعالی:وآتوا حقه یوم حصاده۔

(۳۶۷/۱)

(۲) ما فی ” البحر الرائق “ : هو الفقیر والمسکین وهو أسوأ حالاً من الفقیر والعامل والمکاتب والمدیون ومنقطع الغزاة وابن السبیل، ولم یقیده فی الکتاب بمصرف الزکوة لیتناول الزکوة والعشر۔ (۳۵۲/۲، کتاب الزکوة، الدرالمختار: ۲۵۶/۳، باب المصرف، النهر الفائق: ۴۱۱/۱، باب المصرف)

(۳) ما فی ” الشامیة “ : لو أن المسلم أو الذمی سقاها مرة بماء العشر ومرةً بماء الخراج، فالمسلم أحق بالعشر والذمی بالخراج ۔ (۲۱۷/۶، کتاب الجهاد، باب العشر والخراج)

(۴) ما فی ” فتاوی قاضی خان “ : وکل بلدة فتحت عنوة وقسمها الإمام بین الغانمین فهی عشریة ۔(۱۲۹/۱، فصل فی العشر والخراج)

ما فی ” الفتاوی التاتارخانیة “ : کل أرض فتحت عنوة وقهراً، وقسمت بین الغانمین المسلمین فهی عشریة۔(۸۱/۲، الفقه الإسلامی وأدلته: ۱۹۰۲/۳)

(۵)ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : الأرض العشریة التی أسلم علیها أهلها طوعاً لأنها أرض إسلامیة یناسبها ما فی معنی العبادة ۔ (۱۹۰۲/۳، الفتاوی التاتارخانیة:۸۱/۲)

(۶) ما فی ” فتاوی محمودیة “ : وجوب العشر إذا ملک المسلم مستمراً علیها من زمن السلطنة المسلمة انتقلت إلیه، وهو لا یعلم أنها من مسلم انتقلت أو کافر؟ هذا ما اختاره الشیخ رشید أحمد الغنغوهی، ومولانا أشرف علی التھانوی ومبناه عدم القطع بکونه دار الحرب لا سیما فی بعض الأحکام۔(۴۵۶/۹)

(امداد الفتاوی :۶۲/۲، فتاوی رشیدیه:ص:۴۴۷)

اوپر تک سکرول کریں۔