۲۰۰/ مکانات والے دیہات میں نمازِ جمعہ !

(فتویٰ نمبر: ۱۹۹)

سوال:

ہمارے گاوٴں ”بوڑکھا“ میں تقریباً مسلم آبادی کے ۲۰۰/ مکانات ہیں اور دو مسجدیں ہیں، جن میں سے ایک جامع مسجد ہے جس میں جمعہ وعیدین بھی ہوتی ہیں، لیکن امامِ جامع مسجد سے ناراضگی کی بنا پر بعض حضرات جمعہ وعیدین بھی دوسری مسجد میں ادا کرتے ہیں، دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

کیا جامع مسجد چھوڑ کر جمعہ وعیدین دوسری مسجد میں ادا کرنا درست ہے؟

دوسری مسجد میں پڑھی گئی نمازیں درست ہوں گی یا نہیں؟

اگر درست نہیں تو پھر نمازِ ظہر قضا کرنا ضروری ہے یا نہیں؟

مذکورہ امام(جس سے لوگ ناراض ہیں) کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

     ۱-ایک جگہ نمازِ جمعہ کا اجتماع افضل ہے،تاکہ سب مسلمان متفق ہوکر اس فرض کو بطورِ شعار ادا کریں، محض ذاتی یا شخصی معمولی ناراضگی کی وجہ سے دوسری مسجد میں نمازِ جمعہ وعیدین قائم نہ کریں، کیوں کہ اس میں اجتماعیت کی مصلحت ختم ہوجاتی ہے، ہاں! اگر ناراضگی کی کوئی شرعی وجہ ہو یا جامع مسجد تمام لوگوں کے لیے ناکافی ہوتی ہو، یا کوئی اور مصلحتِ شرعی ہو، تو دوسری مسجد میں نمازِ جمعہ وعیدین پڑھنا درست ہے۔(۱)

۲-اگر ناراضگی کی بنیاد امامِ مذکور کا فسق وفجور میں مبتلا ہونا یا صغائر(صغیرہ گناہوں) پر مصر ہونا ہے، تو اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے، اور اگر محض ذاتی عناد ودشمنی ہے، تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلاکراہت درست ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱)ما في ” زاد المعاد لإبن القیم الجوزي “ : الخاصة الثالثة : صلاة الجمعة التي هي من آکد فروض الإسلام ، ومن أعظم مجامع المسلمین وهي أعظم من کل مجمع یجتمعون فیه وأفرضه سوی مجمع عرفة ، ومن ترکها تهاونًا بها طبع اللّٰه علی قلبه ، وقُربُ أهل الجنة یوم القیامة وسبقهم إلی الزیارة یوم المزید بحسب قربهم من الإمام یوم الجمعة وتبکیرهم ۔(۲۸۳/۱ ، فصل في هدیه ﷺ في تعظیم یوم الجمعة ، ط : دار الفکر بیروت)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتوٴدی في مصر واحد بمواضع کثیرة مطلقًا علی المذهب ، وعلیه الفتوی ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قال العلامة الشامي رحمه اللّٰه : مطلقًا ؛ أي سواء کان المصر کبیرًا أو لا ۔ (۱۵/۳ ، کتاب الصلاة ، مطلب في جواز الاستنابة الخطیب)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو أم قومًا وهم له کارهون إن الکراهة لفساد فیه أو لأنهم أحق بالإمامة منه کره له ذلک تحریمًا لحدیث أبي داود : ” لا یقبل اللّٰه صلاة من تقدم قومًا له کارهون “ (وإن هو أحق لا) والکراهة علیهم ۔ (۲۵۴/۲ ، کتاب الصلاة ، مطلب في تکرار الجماعة)

ما في”بدائع الصنائع“:وأما بیان من یصلح للإمامة في الجملة فهوکل عاقل مسلم حتی تجوز إمامة العبد والأعرابي والأعمی وولدالزنا والفاسق؛ وهذا قول العامة۔۔۔ولنا ما روي عن النبي ﷺ أنه قال:”صلوا خلف من قال:لا إله إلا اللّٰه“۔وقوله ﷺ:” صلوا خلف کل بر وفاجر“۔(۶۶۶/۱،کتاب الصلاة،فصل بیان من یصلح للإمامة)فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۳/۱۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔