(فتویٰ نمبر: ۴۳)
سوال:
شہادہ سے ۱۶ / کلومیٹر کی دوری پر ایک دیہات واقع ہے،جس میں ۲۲/ مکانات ہیں اور دواخانہ اور دکانیں وغیرہ بھی ہیں، اور پنج وقتہ نماز بھی ہوتی ہے، نیز مزید ضرورت پر شہادہ سے رجوع کیا جاتا ہے، تو کیا ایسے دیہات میں نمازِ جمعہ پڑھنا درست ہے یا نہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
وہ چھوٹا گاوٴں ہے اس میں جمعہ وعید درست نہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : ویشترط لصحتها سبعة أشیاء : الأول : المصر وهو ما لا یسع أکبرمساجده أهله المکلفین بها ، وعلیه فتوی أکثر الفقهاء ، وفیما ذکرنا إشارة إلی أنه لا تجوز في الصغیرة التي لیس فیها قاض ومنبر وخطیب کما في المضمرات ۔ (۵/۳ ، ۷ ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة، حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح :ص/۲۷۹)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: ۳۳/۵، أحسن الفتاویٰ: ۴/ ۱۴۴) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۳/۱۶/ ۱۴۲۹ھ
