(فتویٰ نمبر: ۱۲)
سوال:
۱-زید کی ایک دوکان یا ہوٹل ہے، جس میں مختلف اشیا کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے مشروبات (Cold Drinks) بھی فروخت کیے جاتے ہیں جو مختلف کمپنیوں (Companies) کے تیار کردہ ہوتے ہیں، اب اگر زید کسی خاص کمپنی سے یہ معاہدہ کرے کہ آپ مجھے اتنی رقم دے دیں،تو میں اپنی دوکان یا ہوٹل(Hotel) میں صرف آپ کا تیار کردہ مشروب ہی فروخت کروں گا، کسی دوسرے کا نہیں۔
۲-کمپنی یہ پیش کش کرے کہ اگر تم صرف ہمارے تیار کردہ مشروب فروخت کروگے،تو ہم تمہیں اتنی رقم دیں گے، تو کیا زید کے لیے اس رقم کا لینا جائز ہے؟
۳-اگر مذکورہ رقم کا لینا ناجائز ہے اور زید اب تک وہ رقم لا علمی کی وجہ سے لیتا آیا ہے اور استعمال بھی کرتا رہا، تو اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
یہ صورت برو کریج کمیشن (Brokerage Commision) اور دلالی کی ہے، دلالی کا معاملہ اصالةً ناجائز ہے، مگر حاجت اور عرف کی بنا پر فقہا نے اس کی اجازت دی ہے، بشرطے کہ اجرت اور کمیشن(Commission) معلوم اور متعین ہو؛ لہٰذا سوال میں مذکورہ دونوں صورتوں میں حاصل ہونے والی رقم جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : وفي الحاوي : سئل عن محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال : أرجو أنه لا بأس به ، وإن کان في الأصل فاسدًا لکثرة التعامل ، وکثیر من هذا غیر جائز ، فجوّزوه لحاجة الناس إلیه کدخول الحمام ۔ (۸۷/۹ ، کتاب الإجارة، مطلب في أجرة الدلال)
(خلاصة الفتاوی : ۱۱۶/۳ ، الفتاوی الهندیة : ۴۵۰/۴ ، ۴۵۱)
(أحسن الفتاویٰ :۲۹۷/۷، نظام الفتاویٰ:۱/ ۲۹۷، فتاویٰ محمودیه:۶۱۷/۱۶) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۲/۴ھ
