پگڑی کے چند اہم مسائل اور ان کا حکم شرعی !

(فتویٰ نمبر: ۴۵)

سوال:

ہم اپنے آبا واجداد کے زمانے سے ایک کرایہ کی دوکان استعمال کرتے ہیں،جو ایک ٹرسٹ(Trust) کی ملک ہے،اس دوکان میں ٹرسٹ کی اجازت کے بغیر کسی قسم کا ردّو بدل نہیں کرسکتے، ٹرسٹ(Trust) کچھ رقم لے کر،یا کرایہ زیادہ لے کر اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی پرانا کرایہ دار دوکان رکھنا نہیں چاہتا،تو وہ نئے کرایہ دار سے مارکیٹ(Market) کے موجودہ حساب سے اس کی قیمت طے کرلے گا، اور نیا کرایہ دار اس کو قیمت دے کر وہ دوکان اپنے قبضے میں لے گا، اور نیا کرایہ دار پرانے کرایہ دار کی بہ نسبت کچھ زیادہ کرایہ ٹرسٹ کو جمع کرائے گا،اور ٹرسٹ یہ بات (معاملہٴ بیع) تب ہی جاکر قبول کرتی ہے، جب کہ پرانے کرایہ دار نے نئے کرایہ دار سے جو موجودہ مارکیٹ(Market) کے حساب سے قیمت لی ہے، اس کا ۳۳٪ فیصد (Percentage) حصہ ٹرسٹ کو جمع کرائے گا، اور پہلے جو کرایہ تھا اس سے زیادہ کرایہ وصول کرے گا، ٹرسٹ(Trust) اسی طرح کے معاملات کو قبول کرتی ہے، اور پرانے کرایہ دار نے نئے کرایہ دار سے جو رقم لی ہے اس پر بھی ٹرسٹ راضی ہے، اور عرفِ عام میں اس طرح کے معاملات چلے آرہے ہیں۔

نوٹ-: ٹرسٹ دوکان بیچنے کے لیے راضی نہیں ہے،کرایہ دار کے ردّو بدل کے ساتھ ۳۳٪ فی صد حصہ لینے کے لیے راضی ہے، جس سے اس کی ملکیت بر قرار رہے،اور جتنی مرتبہ کرایہ دار تبدیل ہوگا ہر مرتبہ ۳۳٪فی صد حصہ ٹرسٹ کو ملے گااور کرایہ بھی زیادہ ملے گا، فی الحال اس دوکان میں تجارت نہ ہونے کے برابرہے،جس کی وجہ سے ہم معاشی تنگی میں مبتلا ہیں، اوردوکان میں سامان ڈالنے کے لیے ہمارے پاس پیسے بھی نہیں ہیں،اگر ہم یہ دوکان کسی نئے کرایہ دار کو دیتے ہیں،توکسی دوسری جگہ دوکان ڈال کر اپنی معاشی حالت درست کرسکتے ہیں۔

خلاصہ-: کیا اس طرح نئے کرایہ دار کو دوکان دے کر، اس کے پاس سے مارکیٹ (Market) کے موجودہ حساب سے رقم لے سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ ٹرسٹ(Trust) اُس پر راضی بھی ہے، شریعت میں اس طرح کے معاملات کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– اگر آپ کے آبا واجداد نے اس دوکان کو پگڑی کی رقم دے کر کرایہ پر حاصل کیا تھا، تو آپ کے لیے نئے کرایہ دار سے پگڑی کی رقم لینا شرعاً جائز ہوگا، اور اس رقم سے ٹرسٹ کا ۳۳٪ فی صد کا مطالبہ ناجائز ہے، کیوں کہ جب وہ حقِ قبضہ فروخت کرچکا اور اس پر اس کی ملکیت باقی نہ رہی، تو وہ غیر مملوک کو بیچ بھی نہیں سکتا، اور نہ اس پر کسی عوض کا مطالبہ کرسکتا ہے، ہاں! ٹرسٹ کا اس دوکان پر حقِ ملک ہے،وہ اپنے اس حقِ ملک کی وجہ سے نئے کرایہ دار سے پہلے کرایہ دار سے زیادہ کرایہ کا مطالبہ کرسکتا ہے، کیوں کہ اب یہ نئے کرایہ دار سے نیا عقدِ اجارہ ہے، جس میں کرایہ کی کمی بیشی کا ٹرسٹ کو شرعاً حق حاصل ہے۔

۲-اور اگر آپ کے آبا واجداد نے پگڑی کی رقم دے کر حقِ قبضہ نہیں خریدا تھا، تو آپ کے لیے نئے کرایہ دا ر سے پگڑی کی رقم کا لینا جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ آپ کو حقِ قبضہ حاصل نہیں، تو آپ اُسے بیچ بھی نہیں سکتے،لیکن اگر ٹرسٹ کی طرف سے آپ کو اس طرح کی اجازت حاصل ہو کہ آپ نئے کرایہ دار سے پگڑی کی رقم لے لو،اور ہمیں اس میں سے ۳۳٪ فی صد دے دو،اور ساتھ ہی نیاکرایہ دار ہمیں کچھ زائد کرایہ ادا کرے، تو ہم اس نئے کرایہ دار کو قبول کریں گے، تو آپ کی حیثیت، ٹرسٹ اور نئے کرایہ دارکے درمیان دلال کی ہوگی،اور آپ کے لیے ۶۷٪فی صد پگڑی کی رقم حقِ قبضہ کا عوض نہیں (جس کے آپ مالک نہیں) بلکہ اُجرتِ دلالی قرار پاکر جائز ہوگی، اور ٹرسٹ کا یہ معاملہ نئے کرایہ دار کے ساتھ نیا عقدِ اجارہ تصور کیا جائے گا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” سنن النسائي “ : عن عمرو بن شعیب عن أبیه عن جده قال : قال رسول اللّٰه ﷺ  ” لیس علی رجل بیع فیما لا یملک “ (۱۹۶/۲ ، باب بیع ما لیس عند البائع)

(سنن أبي داود : ص/۴۹۵ ، کتاب البیوع ، باب الرجل یبیع ما لیس عنده)

ما في ” رد المحتار “ : قال في التاترخانیة : وفي الدلال والسمسار یجب أجر المثل وما تواضعوا علیه أن في کل عشرة دنانیر کذا ، فذلک حرام علیهم ۔ وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به، وقال ابن عباس : لا بأس أن یقول : بع هذا الثوب ۔ (۸۷/۹)

ما في ” إعلاء السنن “ : فما زاد علی کذا وکذا فهو لک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وفي التلویح : أما قول ابن عباس وابن سیرین وأکثر العلماء لا یجیزون هذا ؛ لأنها وإن کانت أجرة سمسرة لکنها مجهولة ، وشرط جوازها عند الجمهور أن تکون الأجرة معلومة ۔ (۲۴۵/۱۶) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۶/۰۳/۱۴۲۹/۳/۱۶ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔