ملازم کیجول(Casual) کی تنخواہ کا حق دار ہوگایا نہیں؟

(فتویٰ نمبر: ۲۴۲)

سوال:

ایک ادارے کی جانب سے ملازم کو ہر ماہ دو دن کیجول (Casual) (رخصت) کے استعمال کرنے کا حق دیا گیا ہے، ملازم ادارے کی جانب سے ملنے والے کیجول کو اس طور سے استعمال کرتا ہے کہ جمعرات اور سنیچر کیجول کے، اور درمیان میں جمعہ کا دن جو ادارے میں تعلیمی چھٹی کا دن ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں ادارہ جمعہ کو بھی کیجول میں شمار کرکے، ملازم کے مشاہرے سے جمعہ کے دن کا بھی روپیہ کاٹ کردیتا ہے، تو ادارے کا یہ عمل شرعی اعتبار سے درست ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

ادارے کا ملازم یا تو اجیرِ مشترک ہوگایا اجیرِ خاص۔

 اجیرِ مشترک: اُس اجیر کو کہتے ہیں جو کسی ایک شخص کے لیے کام نہ کرے، یا ایک شخص کے لیے کام کرے، مگر اوقات کی تعیین نہ ہو بلکہ کام متعین ہو، تو وہ کام مکمل ہونے پر طے شدہ اُجرت کا حق دار ہوگا۔

 اجیرِ خاص: اُس اجیر کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے کے کام کے لیے مخصوص وقت میں اجیر ہو، اجیرِ خاص چوں کہ اپنی ملازمت کے اوقات مستاجر (فرد یا ادارے) کے ہاتھ فروخت کرتا ہے، اس لیے اجیرِ خاص اُسی وقت سے اُجرت کا مستحق ہوتا ہے، جس وقت سے اجیر نے اپنے آپ کو مستاجر کے سپرد کردیا ہو، خواہ مستاجر اس سے کام نہ بھی لے، تب بھی وہ اُجرت کا حق دار ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ عقدِ اجارہ میں اجیرِ مشترک کا عمل اور اجیرِ خاص کے اوقات معقود علیہ ہوتے ہیں، یعنی جب اجیرِمشترک کام مکمل کرلے اور اجیرِ خاص اپنے اوقاتِ ملازمت مستاجر کے سپرد کردے، تو وہ اُجرت کا حق دار ہوگا۔(۱)

عامةً ادارے کا ملازم اجیرِ خاص ہوتا ہے اور چھٹی کے دن وہ اپنے اوقاتِ ملازمت مستاجر (ادارے) کو نہیں سونپتا، اس لیے جمہور فقہائے کرام کے نزدیک چھٹی کی تنخواہ اس کو نہیں ملے گی(۲)،اگر وہ چھٹی والے دن کی تنخواہ بھی وصول کرتا ہے، تو کہا جائے گا کہ اس نے بغیر شرعی وجہ کے اُجرت طلب کی ہے اور یہ ناجائزہے۔(۳)

مگر مستقل ملازم کے حق میں چوں کہ عرف وعادت یہ ہے کہ اس کو ہفتے میں ایک دن مع تنخواہ چھٹی دی جاتی ہے تاکہ مستقل کام کرنے سے طبیعت میں جو اُکتاہٹ اور اضمحلال پیدا ہوتا ہے، وہ دور ہوجائے اور ایک دن کے بعد وہ زیاہ نشاط اور چستی کے ساتھ مستاجر کے کام کو انجام دے، اور اس میں طرفین کا فائدہ بھی ہے؛ اس لیے مستقل ملازم کے لیے ہفتے میں ایک دن کی چھٹی کی تنخواہ لینا جائز ہے(۴)، لیکن اگر یہ ملازم چھٹی کے دن بجائے آرام واستراحت کے سفر پر چلاجائے اور دوسرے دن سفر سے تھک تھکاکر اپنے کام پرلوٹے، تو ضرور اس کا کام متأثر ہوگا، جس میں مستاجر (ادارے یا فرد) کا نقصان ہے، مزید برآں وہ اس چھٹی کے دن کی تنخواہ بھی طلب کرے، جس کی وجہ سے چھٹی کے بعد کے دن کا کام بھی متأثر ہو، منقول ومعقول نہیں ہے؛ اس لیے اگر کوئی ادارہ ہفتے میں ایک دن کی چھٹی مع تنخواہ کے لیے یہ شرط لگائے کہ ملازم ہفتہ بھر یا ہفتے کے اکثر ایام میں حاضر رہا ہو، اور چھٹی کے بعد والے دن بھی اولِ وقت میں حاضری دی ہو، تو وہ اس ایک دن کی چھٹی مع تنخواہ کا حق دار ہوگا، ورنہ یہ دن بھی رخصت میں شمار ہوگا اور اس کی تنخواہ کاٹ دی جائے گی، تو شرعاً ایسی شرط لگانا صحیح ودرست ہے(۵)، البتہ مالک ومزدور کے لیے شرعِ اسلامی کی تعلیم یہ ہے کہ اپنے اندر ایک دوسرے کی خیر خواہی ونفع رسانی کا جذبہ رکھے، یعنی مزدور اپنے اوقاتِ ملازمت سے کچھ زائد وقت دے، اور پوری دیانت داری کے ساتھ بحسن و خوبی اپنے مفوضہ کام کو انجام دے اور مالک اپنے مزدور کے ساتھ وسعت وفراخ دلی سے کام لے۔(۶)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : الأجراء علی ضربین : مشترک وخاص، فالأول من یعمل لا لواحد ، أو یعمل له عملا غیر موقت ، أو موقتا بلا تخصیص، ولا یستحق المشترک الأجر حتی یعمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والثاني : الخاص وهو من یعمل لواحد موقتا بالتخصیص ، ویستحق الأجر بتسلیم نفسه في المدة وإن لم یعمل۔ (تنویر) ۔ وفي الشامیة : قال ابن عابدین الشامي رحمه اللّٰه تعالی : قال الزیلعي: وحکمهما أي المشترک والخاص أن المشترک له أن یتقبل العمل من أشخاص؛ لأن المعقود علیه في حقه هو العمل، أو أثره ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والخاص لا یمکنه أن یعمل لغیره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة للمستأجر، والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا یبقي الأجر مستحقًا وإن نقض العمل۔(۷۵/۹۸۲، کتاب الإجارة ، مبحث الأجیر المشترک ، بحث الأجیر الخاص)

(۲) ما في ” المبسوط للسرخسي “ : ولو کان یبطل من الشهر یومًا أو یومین لا یرعاها حوسب بذلک من أجره ، سواء کان من مرض أوبطالة ؛ لأنه یستحق الأجر بتسلیم منافعه ، وذلک ینعدم في مدة البطالة سواء کان بعذر أو بغیر عذر۔ (۱۸۳/۱۵ ، کتاب الإجارات ، باب إجارة الراعي)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوٓا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔(سورة النساء : ۲۹)

(۴) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قلت : إنما یکون المدرس من الشعائر لو مدرس المدرسة کما مر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وهل یأخذ أیام البطالة کعید ورمضان ؟ لم أره، وینبغي إلحاقه ببطالة القاضي ، واختلفوا فیها، والأصح أنه یأخذ؛ لأنها للاستراحة۔ أشباه من قاعدة العادة محکمة ۔ (در مختار)۔ وفي الشامیة : قال ابن عابدین الشامي رحمه اللّٰه تعالی : قوله : (وینبغي إلحاقه ببطالة القاضي إلخ) قال في الأشباه: وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له في بیت المال في یوم بطالته ، فقال في المحیط: إنه یأخذ ؛ لأنه یستریح للیوم الثاني ، وقیل : لا ۔ اه ۔ وفي المنیة : القاضي یستحق الکفایة من بیت المال في یوم البطالة في الأصح ۔ وفي الوهبانیة : أنه أظهر فینبغي أن یکون کذلک في المدرس؛ لأن یوم البطالة للاستراحة ، وفي الحقیقة تکون للمطالعة والتحریر عند ذوي الهمة ۔

(۳۴۳/۶ ، ۴۴۴ ، کتاب الوقف ، مطلب في استحقاق القاضي والمدرس الوظیفة في یوم البَطالة ، ط : دار الکتاب دیوبند)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : المعروف عرفًا کالمشروط شرطًا۔(۵۱/۱ ، المادة : ۴۳ ، شرح القواعد الفقهیة : ۲۳۷)

(۵) ما في ” جامع الترمذي “ : عن عمرو بن عوف المزني عن أبیه عن جده: أن رسول اللّٰه ﷺ قال: ”۔۔۔۔۔المسلمون علی شروطهم إلا شرطًا حرم حلالا أو أحلَّ حرامًا “۔

(۲۵۱/۱، کتاب البیوع، أبواب الأحکام)

ما في ” جمهرة القواعد الفقهیة “ : المسلمون عند شروطهم ۔ (۱۷۲/۱)

(۶)ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن تمیم الداري – رضي اللّٰه عنه – : أن النبي ﷺ قال : ” الدین النصیحة “ ۔ قلنا :لمن ؟ قال:” للّٰه ولکتابه ولرسوله ولأیمة المسلمین وعامتهم“۔

(۵۴/۱ ، کتاب الإیمان ، باب بیان أن الدین النصحیة)

(جامع الترمذي : ۱۴/۲ ، أبواب البر والصلة) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۶/۲۷ھ

اوپر تک سکرول کریں۔