عقدِ مضاربت(Speculation Contract) میں ہونے والے نقصان کی تلافی !

(فتویٰ نمبر:۶۲)

سوال:

زید نے بکر سے کہا کہ اگر تیرے پاس پیسے ہوں، تو دو مہینے کے لیے مجھے دے میں اس کو تجارت میں لگاوٴں گا، جس سے اچھاخاصا نفع ہوگا، تو بکر نے اس کو پہلی مرتبہ ایک لاکھ روپے، پھر پچاس ہزار روپے دِیے، اور پوچھا کہ آپ یہ پیسے کس کام میں لگائیں گے ؟تو زید نے کہا کہ میں اس کو ایک اور آدمی(عمر) کے حوالے کروں گا، اور وہ تیسرے آدمی (حنیف) کو دے گا،جو زمین اور مکانات کی خریدوفروخت کرتا ہے، لیکن آپ بے فکر رہیں، کیوں کہ پیسے آپ نے مجھے دیے ہیں؛ اس لیے میں ہی اس کا ذمہ دار رہوں گا، اور جو نفع ہوگا اس میں ۶۰% میرا اور ۴۰% آپ کا رہے گا، بکر نے کہا کہ مولانا مجھے نفع سے کوئی لینا دینا نہیں ہے،میرے پیسے بینک (Bank)میں پڑے رہیں، اس سے بہتر ہے کہ ایک عالمِ دین کچھ وقت کے لیے فائدہ اُٹھائے؛لہٰذا یہ پیسے مجھے وعدے کے مطابق دو مہینے کے بعد واپس کردیں۔

پھر ایک مہینے کے بعد بکر نے زید کو اپنے گھر بلایا اور کہا کہ آپ نے جو پچاس ہزار روپے دیے تھے اس میں دس ہزار روپے کانفع ہوا ہے،لہٰذا بیعِ مضاربت(Speculation Sale) کے مطابق آپ اس میں سے۴/ہزار روپے لے لیں ، اور میرے ۶/ ہزار ہوں گے۔

 پیسے دینے کے بعد بکر نے زید سے کہا کہ اب ان پیسوں کا کیا کرنا ہے؟ معاملہ آگے بڑھانا ہے یا نہیں؟ تو بکر نے کہا کہ ابھی دو مہینے ختم نہیں ہوئے،وقت ختم ہونے کے بعد مجھے میرے پورے پیسے چاہیے، اس میں سے ایک روپیہ بھی کم نہ ہو، تو زید نے کہا کہ ٹھیک ہے۔

واضح ہو کہ اس معاملے کو تحریری شکل نہیں دی گئی، ابھی دو مہینے ختم نہیں ہوئے تھے کہ زید نے بکر سے کہا کہ (حنیف) تاجر کا انتقال ہوگیا ہے، لہٰذا دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ معاملہ آسان کرے، پھر زید نے کہا کہ ہمارے درمیان بیعِ مضاربت تھی(Speculation Sale) ،تجارت میں نقصان ہوا ہے، تو شریعت کے مطابق اب آپ ایک روپیہ بھی میرے پاس سے وصول نہیں کرسکتے،بکر نے کہا کہ میرا معاملہ تو آپ کے ساتھ  تھا اور آپ نے ذمہ داری بھی لی تھی، اور میں بیعِ مضاربت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا، تو پھرزید (مولانا) نے کہا کہ ٹھیک ہے میں تھوڑا تھوڑا کرکے آپ کے پیسے دے دوں گا، اسی طرح ایک لاکھ روپے زید (مولانا ) نے مجھے دِیے اور کہا کہ یہ پیسے اپنے ساتھ اس کے اثرات لے کر آئیں گے، ابھی پچاس ہزار روپے نہیں دیے ہیں، اب مجھے حج کے لیے جانا ہے،تو کیا اس ایک لاکھ روپے سے میں حج کرسکتا ہوں؟ کیاوہ ایک لاکھ روپے میرے لیے صحیح ہیں یا نہیں ؟ نیزباقی پچاس ہزار روپیوں کا مطالبہ کرسکتا ہوں یانہیں؟

نوٹ-: میں نے پیسے زید کو دیے تھے،اس نے عمر کو دیے، اور عمر نے حنیف کو دیے، جس کے بارے میں مجھے کچھ بھی معلوم نہیں تھا ،اور زید نے بذاتِ خود اس کی ذمہ داری بھی لی تھی۔

الجواب وباللہ التوفیق:

صورتِ مسئلہ میں بکر کے زید سے یہ پوچھنے پر کہ”آپ یہ رقم کہاں لگاوٴگے؟“ زید کے جواب: ”میں عمر کو دوں گا اورعمر حنیف کو دے گا جو زمین کا کاروبار کرتا ہے، جو کچھ نفع ہوگا اس میں سے میرا ساٹھ فی صد (%۶۰)اور آپ کا چالیس فی صد (%۴۰)رہے گا“ پر بکر کا یہ کہنا کہ” مجھے نفع(Profit) سے کچھ لینا دینا نہیں، میرے پیسے بینک (Bank)میں پڑے رہیں اس سے بہتر ہے کہ ایک عالمِ دین کچھ وقت فائدہ اُٹھالے، البتہ دومہینے بعد میرے پیسے مجھے واپس کردیں“سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بکر نے یہ رقم زید کو بطورِ قرض دی ہے، مگر جب زید نے پچاس ہزار پر حاصل ہونے والے دس ہزار(۱۰۰۰۰) روپے میں سے چالیس فی صد (%۴۰) کے اعتبار سے،چار ہزار (۴۰۰۰) بکر کو دیے اور بکر نے اُسے قبول کرلیا، تو بکر کا یہ چار ہزار(۴۰۰۰) قبول کرنا دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ اپنی دی ہوئی رقم پر سود لے رہا ہے(۱)، یا مضاربت (Speculation) پر راضی ہوکر اپنے حصہٴ نفع کو وصول کررہا ہے، اور حالِ مسلم کے لائق یہی ہے کہ وہ اپنے حصہٴ نفع کو لے رہا ہے نہ کہ سود کو ، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ” ظُنُّوْا بِالْمُوٴْمِنِیْنَ خَیْرًا “۔(تفسیر رازی:۱۱۰/۱۰)، اور فقہ کا قاعدہ ہے :” أُمُوْرُ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَی السَّدَادِ حَتَّی یَظْهرَ غَیْرُه “۔ ” مسلمانوں کے معاملات درستگی پر محمول کیے جاتے ہیں، جب تک کہ اس کے خلاف (خلافِ صلاح وسداد) ظاہر نہ ہو۔“ (قواعد الفقه :ص/۶۳)

۱– لہٰذا یہ معاملہ عقدِ مضاربت (Speculation Contract )کا ہونا چاہیے، اور مضاربت میں نقصان ہونے کی صورت میں اول اس نقصان کی تلافی، حاصل ہونے والے منافع سے کی جاتی ہے، اگر نقصان منافع سے زائد ہو، تو وہ رب المال (۔۔۔۔۔)کا ہوتا ہے؛ اس لیے زید نے بطور ِنفع جو چھ ہزارروپے وصول کیا وہ بکر کو واپس کردے، اب بکر کو دس ہزار روپے رأس المال(Capital) میں حاصل ہوئے (پہلے جو چار ہزار (۴۰۰۰) نفع کے نام پر دیا گیا، اور یہ چھ ہزار (۶۰۰۰) جو زید اسے ادا کرے گا)،بقیہ ایک لاکھ چالیس ہزارروپے (۱۴۰۰۰۰) بکر ہی کا نقصان ہوگا، زید پر کوئی ضمان (Guarantee)لازم نہیں(۲)، اگر زید ضمان کو قبول کرلے اور بکر کو دے بھی دے، تو بکر کے لیے اس کا استعمال حلال نہیں ہوگا۔(۳)

۲– جس وقت بکر نے چار ہزار (۴۰۰۰) نفع حاصل کیا اور زید نے پوچھا کہ اب کیا کرنا ہے ، معاملہ آگے بڑ ھانا ہے یا آپ کو اپنی پوری رقم واپس چاہیے ؟ تو بکر کا یہ کہنا کہ”ابھی دو مہینے میں پندرہ دن باقی ہیں“، یہ بھی اس پر دلالت کررہا ہے کہ بکر پورے دو مہینے مضاربت( Speculation) پر راضی ہے، اب دو مہینے پورے ہونے سے پہلے یہ حادثہ پیش آیا،تو یہ زمانہ مضاربت کا ہے نہ کہ اس کے انفساخ کا، اس لیے نقصان بکر ہی کا سمجھا جائے گا نہ کہ زید کا۔(۴)

۳-زید نے بکر کو جو ایک لاکھ روپے ادا کیے ،اب زید ان میں ہدیہ کی نیت کرتا ہے ،تو اس کا استعمال بکر کے لیے حلال ہوگا ۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” قواعد الفقه “ : کل قرض جرَّ نفعًا فهو ربا حرام ۔ (ص/۱۰۲)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وما هلک من المضاربة یصرف إلی الربح ؛ لأنه تبع ، فإن زاد الهالک علی الربح لم یضمن ، ولو فاسدة من عمله ؛ لأنه أمین ، وإن قسم الربح وبقیت المضاربة ثم هلک المال أو بعضه ، تراد الربح لیأخذ المالک رأس المال وما فضل بینهما ، وإن نقص لم یضمن ۔ (در مختار) ۔ (۴۴۵/۸ ، کتاب المضاربة ، تبیین الحقائق : ۵۴۵/۵ ، کتاب المضاربة)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : إذا تلف مقدار من مال المضاربة فیحسب في بادئ الأمر من الربح ، ولا یسری إلی رأس المال، وإذا تجاوز مقدار الربح وسری إلی رأس المال فلا یضمنه المضارب، سواء کا نت المضاربة صحیحة أو فاسدة ۔ (۴۵۸/۳ ، المادة : ۱۴۲۷)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنو ا لا تأکلوٓا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض منکم﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)

ما في ” الاختیار لتعلیل المختار “ : إن وقت لها وقتًا بطلت بمضیه ۔ (المختار) ۔ (۳/۲۷)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : إذا وقت رب المال المضاربة بوقت معین فبمضي ذلک الوقت تنفسخ المضاربة ۔ (۳/۴۵۴ ، المادة : ۱۴۲۳)

(۴) ما في ” حاشیة الشلبي علی تبیین الحقائق “ : قال رحمه اللّٰه تعالی : (وملک بلا قبض جدید لو في ید الموهوب له) یعني : لو کانت العین الموهوبة في ید الموهوب له ملکها الموهوب بمجرد العقد ، وإن لم یجدد فیها قبضًا ؛ لأن القبض ثابت فیها وهو الشرط ، سواء کانت في یده أمانة أو مضمونة ؛ لأن قبض الأمانة ینوب عن مثله لا عن المضمون ، والمضمون ینوب عنها ۔ (تبیین) ۔ ووجه الاستحسان أن الهبة تقف صحتها علی مجرد القبض ، فلا یلتفت إلی قبض بصفة ، ومجرد القبض عقیب العقد فصحت الهبة ۔

(۶/۵۶ ، بدائع الصنائع : ۸/۱۱۲ ، کتاب الهبة ، رد المحتار : ۸/۴۹۸ ، کتاب الهبة ) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۲۲/۴/۱۴۲۹ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔