(فتویٰ نمبر: ۱۸۱)
سوال:
والد صاحب جس مکان میں رہتے ہیں وہ انہوں نے بھائیوں کو دے دیا ہے، اور زمین بھی کھلا میدان ہے،نیز والد صاحب کے پاس پانچ وینگہ کھیت اور ہے، انہوں نے پہلا کھیت بیچ کراس کی جو رقم ملی تھی،ہم پانچ بھائی اور پانچ بہنوں میں سے پانچ بھائیوں کو دس لاکھ روپے،اور بہنوں کو سات لاکھ روپے دیے ہیں، کسی کا ایسا کہنا تھا کہ باپ کی حیات میں ورثا کو جودیا جاتا ہے وہ بہن بھائی سب کو ایک جیسا ملتا ہے، اب ہمارا بھائی کہتا ہے کہ گھر میں سے بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا، اور پانچ وینگہ کھیت میں سے بھی بہنوں کو کچھ حصہ نہیں ملے گا۔
ہم بہنوں کا یہ سوا ل ہے کہ گھر میں اور میدان وکھلی زمین میں سے ہم کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ بھائیوں کا کہنا ہے کہ بہنوں کو کچھ حصہ نہیں ملے گا، ہم پانچ بہنوں میں سے ایک بہن کا چار سال پہلے انتقال ہوگیا ہے، اور میں( صفیہ) میرے پاس تو کچھ زیادہ استعمال کا سامان بھی نہیں ہے، میری والدہ صاحبہ کے انتقال کو بائیس برس ہوگئے ہیں، میرے والد صاحب نے دوسری شادی نہیں کی۔
الجواب وباللہ التوفیق:
آپ کے والد اپنی زندگی میں جو کچھ آپ بھائی بہنوں کے درمیان تقسیم کریں وہ ہبہ ہے، جو سب اولاد خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، سب کے درمیان برابر تقسیم کرنا اَولیٰ ہے، لیکن اگر لڑکوں کو زیادہ اور لڑکیوں کو کم دیں تب بھی جائزہے، کیوں کہ وہ ان کی ملکیت ہے جس میں ان کو ہر طرح کے تصرف کا اختیار ہے، مگر انصاف یہ ہے کہ سب اولاد کو برابر تقسیم کریں۔(۱)
والد صاحب جس مکان میں رہتے ہیں اگر وہ اپنی زندگی میں تمہارے بھائیوں کو یہ مکان ہبہ کرکے قبضہ نہیں دیتے ہیں اور انتقال کرجاتے ہیں، تو موجودہ تمام بھائی بہن اس مکان، کھلے میدان اور پانچ وینگہ کھیت میں شریعت کے متعین کردہ حصے کے حق دار ہوں گے(۲)، اور اگر وہ اپنی زندگی میں بھائیوں کو یہ مکان وغیرہ ہبہ کرکے قبضہ دے دیتے ہیں(۳)،تو پھر بہنوں کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما کیفیة العدل بینهم فقد قال أبو یوسف : العدل في ذلک أن یسوی بینهم في العطیة ولا یفضل الذکر علی الأنثی ، وقال محمد : العدل بینهم أن یعطیهم علی سبیل الترتیب في المواریث للذکر مثل حظ الأنثیین ۔۔۔۔۔ ولو نحل بعضًا وحرم بعضًا جاز من طریق الحکم ؛ لأنه تصرف في خالص ملکه لا حق لأحد فیه إلا أنه لا یکون عدلا ۔ (۱۸۲/۵ ، کتاب الهبة)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو وهب رجل شیئًا لأولاده في الصحة ، وأراد تفضیل البعض علی البعض في ذلک ، لا روایة هذا في الأصل عن أصحابنا ، وروي عن أبي حنیفة رحمه اللّٰه تعالی أنه لا بأس به إذا کان التفضیل بزیادة فضل له في الدین ، وإن کانا سواء یکره ، وروی المعلی عن أبي یوسف رحمه اللّٰه أنه لا بأس به إذا لم یقصد به الإضرار ، وإن قصد به الإضرار سوی بینهم یعطي الإبنة مثل ما یعطي للإبن ، وعلیه الفتوی ۔ (۳۹۱/۴ ، کتاب الهبة)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یوصیکم اللّٰه في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین﴾۔(سورة النساء : ۱۱)
ما في ” روح المعاني “ : والمراد أنه یعد کل ذکر بأنثیین حیث اجتمع الصنفان من الذکور والإناث، واتحدت جهة إرثها فیضعف للذکر نصیبه ۔۔۔۔۔ ولأن في ذلک تنبیها علی أن التضعیف کاف في التفضیل فکأنه حیث کانوا یورثون الذکور دون الإناث ، قیل لهم کفی الذکور ضوعف لهم نصیب الإناث، فلا یحرمن عن المیراث بالکلیة مع تساویهما في جهة الإرث ۔ (۳۳۹/۳)
(۳) ما في ” مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر “ : الهبة تصح بإیجاب وقبول، وتتم بالقبض الکامل۔ (۴۸۹/۳)
وما في ” مجمع الأنهر في شرح ملتقی الأبحر “ : والأصل في جنس هذه المسائل أن اشتغال الموهوب بملک الواهب یمنع تمام الهبة ، مثاله وهب جرابًا فیه طعام لا تجوز ۔
(۴۹۱/۳ ، کتاب الهبة)
(الفتاوی الهندیة :۳۸۰/۴)
ما في ” البحر الرائق “ : وهبة الأب لطفله تتم بالعقد ، وقید بالطفل ؛ لأن الهبة للولد الکبیر لا تتم إلا بقبضه ولو کان في عیاله ۔(۴۸۹/۷، کتاب الهبة)
ما في ” المحیط البرهاني في الفقه النعماني “ : عن أبي یوسف : لا یجوز للرجل أن یهب لامرأته ، أو أن تهب لزوجها ولأجنبي دارا وهما فیها ساکنان ، کذلک الهبة للولد الکبیر ۔(۱۸۶/۷ ، کتاب الهبة والصدقة ، الفصل السادس في الهبة من الصغیر ، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت ، الفتاوی الهندیة :۳۸۰/۴ ، کتاب الهبة) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۷ھ
