بلڈ بینک(BLOOD BANK) سے متعلق شرعی نقطہٴ نظر

(فتویٰ نمبر:۱۸۸)

سوال:

۱-کیا ضرورةً ایک انسان اپناخون دوسرے کو عطیہ کر سکتا ہے؟

۲-آج کل بلڈ بینک (Blood Bank) کے نام سے ادارے وجود میں آچکے ہیں، لوگ ان اداروں کو اپنا خون عطیہ کرتے ہیں ، اور یہ بینک (Bank) ضرروت مندوں کو یہ خون ان سے معمولی رقم (جو در اصل خون نکالنے ، اسے محفوظ رکھنے اور مختلف ٹیسٹ (Experiment)کر وانے کی لاگت ہوتی ہے) لے کر دے دیتی ہے، نیز خون کا عطیہ کرنے والوں کو ایک سرٹیفکٹ(Certificate) دے دیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر اس شخص کو بوقتِ ضرورت بینک(Bank) اتنی ہی مقدار خون جتنی مقدار اس نے عطیہ(Donary) کیا تھا، اُوپر ذکر کردہ لاگت کے بغیر ہی دے دیتی ہے، اور اس سے زائد مقدار مختلف ٹیسٹوں(Diffrent Experiment) پر آنے والی لاگت لے کر دیتی ہے، بینک کسی بھی صورت میں خون کی قیمت کسی سے بھی وصول نہیں کرتی، جو کچھ بھی لیا جاتا ہے وہ محض خون نکالنے، اسے محفوظ رکھنے اورمختلف ٹیسٹ کروانے کی لاگت ہوتی ہے، تو کیا اس طرح کے ادارے میں انسان اپنا خون عطیہ کرسکتا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– خون انسان کا جز ہے جو مکرم ہے، اور جب بدن سے نکالا جائے گا تو وہ نجس اور ناپاک بھی ہے(۱)، ان دونوں باتوں کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ عام حا لات میں ایک انسان کا خون دوسرے انسان کے بدن میں داخل کرنا حرام ہو، لیکن اضطراری حالت میں جس میں ہلاکت یا قربِ ہلاکت کا خطرہ یقینی ہو(۲)، شریعت اپنے ماننے والوں کوبقدرِ ضرورت حرام چیزوں کے استعمال کی سہولت ا ورخصت دیتی ہے(۳)، جیسا کہ عورت کا دودھ جزوِ انسانی ہے، مگر دوا وعلاج کے لیے عورت کے دودھ کو حضراتِ فقہائے کرام نے جائز قرار دیا ہے(۴)،اسی طرح جب معتمد علیہ طبیب یا ڈاکٹر کے قول سے یہ ثابت ہوجائے کہ ناجائز دواہی اس بیماری کا علاج ہے، او رکوئی جائز دوا اس کا بدل نہیں ہوسکتی، اور اس دوا کا اس بیماری کے ازالے میں موٴثر ومفید ہونا بھی یقینی ہو،تواس ناجائز چیز کے استعمال کی رخصت ہے(۵)؛ اس لیے بوقتِ ضرورت ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے خون کا عطیہ کر سکتا ہے، اور اِس عمل پر اُسے اجر بھی ملے گا، کہ اللہ رب العزت اسے مہلک بیماریوں سے محفوظ فرمائیں گے، یا اس کے درجات کو بلند کریں گے، یا اس کی سیئات کو معاف فرمادیں گے۔مگر خون کے اس عطیہ (Gift) کے جائز ہونے کے لیے کچھ شرطیں ہیں:

(۱)جس شخص کو یہ خون عطیہ کیا جارہا ہے واقعةً وہ ایسا بیمار یا زخمی ہو کہ اُس کی حیات خون چڑھانے پرموقوف ہو۔

(۲)جو شخص خون کا عطیہ کررہا ہو اسے اس عمل سے ضررِ فاحش (Damage enormous) لا حق نہ ہو۔ (۶)

(۳)قابلِ اعتماد ماہر مسلم طبیب، یا وہ نہ ہو تو غیر مسلم قابلِ اعتماد تجربہ کار وماہر ڈاکٹر کی یہ رائے ہو کہ اس مریض یا زخمی کو بچانے کے لیے خون چڑھانا ضروری ہے۔

(۴)خون عطیہ کرنے والے کا خون، مہلک بیماریوں کے جراثیم (Bacteria\Germs) سے خالی ہو۔

(۵)خون عطیہ کرنے والا کامل الاہلیت (Perfect worthiness) ہو۔

۲-جب ضرورةً اپنا خون کسی کو عطیہ کرنے کی رخصت وگنجائش ہے، اور کبھی یہ ضرورتیں اچانک بھی پید ا ہوجاتی ہیں اور خون کی بہت زیادہ مقدار کی متقاضی ہوجاتی ہیں، جیسے فسادات، ٹرین حادثات وغیرہ، جن میں بسا اوقات بہت زیادہ افراد زخمی ہوجاتے ہیں اور ان کی جان بچانے کے لیے ان سب کو خون چڑھا نا ضروری ہوجاتا ہے، اور پھر اس میں بھی مریض کے خون کا گروپ (Blood gruop) اور جو خون چڑھا یا جاتا ہے اس خون کا گروپ بالکل یکسا ں ہونا ضروری ہوتا ہے، ورنہ بجائے نفع کے نقصان کا اندیشہ ہوجاتا ہے؛ اس لیے اچانک پیش آمدہ ضروریات کے لیے ہر گروپ کا خون فراہم رکھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے، اور مقدار کی تعیین وتحدید نا معلوم ہو نے کی وجہ سے کا فی مقدار میں محفوظ رکھنا ضروری ہوگا ؛ اس لیے فراہمی اور محفوظ رکھنے کے جو مناسب طریقے ہوں گے، شرعاً ان کی بھی رخصت ہوگی، کیوں کہ فقہ کا قاعدہ ہے: ” اَلشَّيْءُ إِذَا ثَبَتَ، ثَبَتَ بِجَمِیْعِ لَوَازِمِه“– جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے جمیع لوازم کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ (ترتیب اللآلي في سلک الأمالي : ۸۷۷/۲ ، المادة : ۱۵۱) (منتخباتِ نظام الفتاویٰ:۳۵۷/۱)؛ اس لیے خو ن کا عطیہ جمع کرنے والے اداروں میں خون کا عطیہ دینا تاکہ بوقتِ ضرورت، ضرورت مندوں کے کام آئے، شرعاً اس کی گنجائش ورخصت ہے۔

البتہ ادارے اس کے پابند ہونے چاہیے کہ وہ ضرورت مند مریض یا اس کے اولیا سے صرف اتنی ہی رقم وصول کریں، جوانہوں نے خون کے نکالنے، اسے محفوظ رکھنے اور مختلف ٹیسٹ (Tastes) وغیر ہ میں صرف کی ہیں، اس سے زائد رقم نہ لیں اور نہ اس کو اپنے لیے نفع بخش تجارت بنائیں، کیوں کہ شرعاً یہ ناجائز وحرام ہے۔ (۷)

رہی یہ بات کہ یہ ادارے(Blood bank) خون کا عطیہ کرنے والوں کو اتنی مقدار میں خون دینے کے مکلف ہوتے ہیں جو اس نے انہیں عطیہ کی،تو یہ تکلیف (پابندی) ازقبیلِ احسان ہے کہ اس نے اس ادارے کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا، تو ادارہ بھی اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتا ہے، اور یہ اسلامی تعلیمات میں داخل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ”جب تمہارے ساتھ کوئی حسنِ سلوک کرے تو تم بھی اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔“(۸)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿قُلْ لاَ أَجِدُ فِيْ مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعُمُه إِلَّا أَنْ یَکُوْنَ مَیْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوْحًا﴾ ۔ (سورة الأنعام : ۱۴۵)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : اتفق الفقهاء علی أن الدم حرام نجسٌ لا یوٴکل ولا ینتفع به ۔ (۲۵/۲۱)

(۲)ما في ” حاشیة الحموي علی هامش الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : فالضرورة بلوغه حدًا إن لم یتناول الممنوع ، هلک أو قارب ، وهذا یبیح تناول الحرام۔

(۳۰۸/۱ ،رقم الحاشیة:۴)

(الموسوعة الفقهیة : ۱۹۱/۲۸)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَمُتَجَانِفٍ لإثْمٍ﴾ ۔ (سورة المائدة : ۳)

ما في ” فقه القضایا الطبیة المعاصرة “ : کما ثبت أنه ﷺ احتجم وأعطی الحجام أجره ۔ (متفق علیه)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ووجه الاستدلال بالحجامة والفصد علی جواز نقل الدم هو قوة العلاقة بینهما ، وذلک أن النبي ﷺ شرع التداوي بالحجامة وهي إخراج الدم وإراقته ، فیجوز التداوي بإدخال الدم لمن یحتاج إلیه بجامع التداوي في کل منهما ، ولا شک أن إدخال الدم لجسد المحتاج إلیه لإنقاذ حیاته أولی من مفسدة إخراجه وإراقته وعدم الاستفادة منه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقد نقل الإجماع علی جواز أکل النجاسات کالدم وما في معناه للمضطر ۔ (ص/۵۴۵ ، ط : دار البشائر الإسلامیة بیروت)

(۴) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : اختلف التداوي ، وظاهر المذهب المنع کما في رضاع البحر، لکن نقل المصنف ثمه وهنا عن الحاوي ، وقیل یرخص إذا علم فیه الشفاء ولم یعلم دواء آخر کما رخص الخمر للعطشان، وعلیه الفتوی ۔ (۳۶۵/۱ ، ۳۶۶ ، کتاب الطهارة ، مطلب : في التداوي بالمحرم)

(۵) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا بأس بأن یسعط الرجل بلبن المرأة ویشربه للدواء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یجوز للعلیل شرب الدم والبول وأکل المیتة للتداوي إذا أخبره طبیب مسلم أن شفاء ه فیه ولم یجد من المباح مایقوم مقامه۔ (۳۵۵/۵ ، کتاب الکراهیة ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات)

(حاشیة الحموي علی الأشباه والنظائر : ۳۰۷/۱)

(۶) ما في ” القواعد الکلیة والضوابط الفقهیة “ : الضرر لا یزال بمثله ۔ (ص:۱۸۵)

(درر الحکام : ۴۰/۱ ، المادة : ۲۵)

(۷) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” قال اللّٰه: ثلاثة أنا خصمهم یوم القیامة: رجل أعطی بي ثم غدر ، ورجل باع حرًا فأکل ثمنه ، ورجل استأجر أجیرًا فاستوفی منه ولم یعطه أجره “۔ (۳۰۲/۱ ، کتاب الإجارة ، باب إثم من منع الأجیر)

(سنن ابن ماجة : ص/۱۷۶ ، أبواب الرهون ، باب أجر الأجراء)

(المسند للإمام أحمد بن محمد بن حنبل : ۳۹۰/۸ ، رقم : ۸۶۷۷)

ما في ” فقه القضایا الطبیة المعاصرة “ : وقالوا : إن البعض یأخذ حکم الکل ، فالدم یأخذ حکم الإنسان عامةً فلا یجوز بیعه للنهي عن ذلک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالدم لا یصح أن یباع لنجاسته ، ونهی الشارع عنه ، فلا یکون محلا للبیع ، کما نقل ابن المنذر إجماع الفقهاء علی تحریم بیع الدم ، وعللوا لرأیهم بأن الدم جزء من الإنسان المکرم الذي لا یجوز بیعه إضافة إلی عدم الانتفاع به ۔ (ص/۵۴۸)

ما في ” المسند للإمام أحمد بن حنبل “ : ” إن رسول اللّٰه ﷺ نهی عن ثمن الدم وثمن الکلب “ ۔ (۲۶۳/۱۴ ، رقم : ۱۸۶۷۴)

(۸)ما في ” السنن لأبي داود “ : عن عبد اللّٰه بن عمر – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من صنع إلیکم معروفًا فکافئوه ، فإن لم تجدوا ما تکافئوه فادعوا له ، حتی تروا أنکم قد کافأتموه “ ۔(ص/۲۳۵ ، سنن النسائي : ۲۷۶/۱ ، باب من سأل باللّٰه عز وجل)

ما في ” عون المعبود شرح أبي داود “ : قوله : (ومن صنع إلیکم معروفًا) أي أحسن إلیکم إحسانًا قولیًا أو فعلیًا (فکافئوه) من المکافاة ، أي أحسنوا إلیه مثل ما أحسن إلیکم لقوله تعالی : ﴿هلْ جَزَآءُ الْإِحْسَانِ إلَِّا الإِحْسَانُ﴾ ۔ (سورة الرحمن: ۶۰) ۔ وقال تعالی : ﴿وأحسن کما أحسن اللّٰه إلیک﴾۔(سورة القصص : ۷۷

(۵۴/۵ ، باب عطیة من سأل باللّٰه عز وجل) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۲۳ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔