استقرارِ حمل سے عورت کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے آپریشن(Operation) کرانا!

(فتویٰ نمبر: ۱۶۳)

سوال:

میری بیوی کو پہلے دو ولادت ہوچکی ہے اور دونوں زچکیاں آپریشن (Scissor) سے ہوئی ہیں، اور اب تیسری زچگی بھی آپریشن (سیزر)سے ہی ہوگی،تو اب ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچہ بند کرنے والا آپریشن (Operation)ضروری ہے، اگر آپریشن نہیں کروایا اور چوتھی مرتبہ حمل ٹھہر گیا، تو ماں اور بچہ دونوں کی جان کو سو فیصد خطرہ ہے، نیز مسلم ماہر ڈاکٹروں کا بھی یہی کہنا ہے او ر عورت بھی بہت کمزور ہے، صرف پانچ سال کی مدت میں یہ تیسرا سیزر (Scissor)ہے، اب اگر صرف حمل بھی ٹھہر گیا، تو اس کو گرانے میں بھی عورت کی جان کو خطرہ ہے، تو کیا ایسی صورت میں اس عورت کے لیے بچہ بند کرنے والا آپریشن کرانا جائز ہوگا یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

کوئی بھی ایسا عمل جس کا مقصد نسلِ انسانی کے سلسلے کو منقطع یا محدود کرنا ہو، اسلام کے بنیادی تصورات کے خلاف اور ناجائز ہے۔(۱)

لیکن جب ماہر قابلِ اعتماد اطبا کی رائے میں اگلا بچہ پیدا ہونے کی صورت میں عورت کی جان چلے جانے یا کسی عضو کے تلف ہوجانے کا ظنِ غالب ہے، تو آپ کے لیے اپنی بیوی کا آپریشن کرادینا جائز ہے، تاکہ استقرار ِحمل نہ ہوسکے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَکُمْ خَشْیَةَ اَمْلَاق﴾ ۔ (سورة الإسراء: ۳۱)

ما في ” الموافقات للشاطبي “ : ومجموع الضروریات خمسة : وهي حفظ الدین ، والنفس ، والنسل ، والمال، والعقل، وقد قالوا: إنها مراعاة في کل ملة ۔

(۱۱/۲ ، التکالیف الشرعیة ومقاصدها)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وأما خصاء الآدمي فحرام ۔ (در مختار) ۔ (۲۴۹/۵ ، ط : نعمانیه)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَمُتَجَانِفٍ لإثْمٍ﴾ ۔ (سورة المائدة : ۵)

ما في ” التفسیر لإبن کثیر “ : أي فمن احتاج إلی تناول شيء من هذه المحرمات التي ذکرها اللّٰه تعالی لضرورة ألجأته إلی ذلک فله تناوله ، واللّٰه غفور رحیم ؛ لأنه تعالی یعلم حاجة عبده المضطر وافتقاره إلی ذلک فیتجاوز عنه ویغفر له ۔ (۴۸۳/۱)

(صفوة التفاسیر للصابوني : ۳۰۲/۱ ، أحکام القرآن للجصاص : ۳۹۲/۲)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم “ : الضرورات تبیح المحظورات ۔ (۳۰۷/۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۱/۱۵ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔