(فتویٰ نمبر: ۱۸۶)
سوال:
میں ایک سنگین مسئلے کا شکار ہوں، مجبوری یہ ہے کہ مجھے ابھی الحمد للہ! تین بچے ہیں، اور میری بیوی چوتھی مرتبہ حمل سے ہے، اس سے پہلے پانچ حمل عدمِ احتیاط کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ساقط ہوگئے، حمل کے دوران اہلیہ کی حالت بہت ہی کمزور ہوجاتی ہے،پورا مہینہ بیڈ ریسٹ (Bed Rest) یعنی آرام کی ضرورت پڑتی ہے، ڈاکٹر کے مطابق حالت اتنی بد تر ہوجاتی ہے کہ جان کنی کا عالم آجاتاہے، حمل نہ ٹھہر ے اس لیے میں نے ضروری احتیاط برتی، جیسے مانعِ حمل گولیوں کا استعمال،مگر اس سے بھی نقصان ہی ہوا،اب رہا ”کوپرٹی“ (Copper T)، تو اس سے بھی بچہ دانی پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اسی طرح کنڈوم(condom) سے بھی خاطر خواہ فائدہ ہوا، نہ ہی لذت ملی، اور میں گنہگار بھی نہیں بننا چاہتا؛لہٰذا شریعت کی روشنی میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ایسی حالت میں اپنی بیوی کا آپریشن(Operation) کراسکتا ہوں یا نہیں؟ تا کہ بچے پیدا نہ ہوں،یا اور کوئی دوسری جائز تدابیر اختیار کرسکتا ہوں؟
نوٹ-: حالتِ حمل میں بیوی کا بی پی (B.P)بہت ہی کمزور (Low)ہو جاتا ہے، اور دورانِ خون نہایت ہی کم ہوجاتا ہے اور وزن گھٹ جاتا ہے، یہ مجبوریاں کسی طرح زائل ہوجاویں، اس لیے ضرور کوئی حل تحریر فرمائیں!
الجواب وباللہ التوفیق:
کوئی بھی ایسا عمل جس کا مقصد نسلِ انسانی کے سلسلے کو منقطع یا محدود کرنا ہو، اسلام کے بنیادی تصورات کے خلاف اور ناجائز ہے ؛اس لیے مرد و عورت دونوں کے لیے دائمی منعِ حمل کی تدابیر کا استعمال کسی بھی حالت میں درست نہیں ہے۔(۱)
البتہ عورت صرف ایک صورت میں دائمی منعِ حمل کی تدبیر استعمال کرسکتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ماہر قابلِ اعتماد اطبا کی رائے میں اگلا بچہ پیداہونے کی صورت میں عورت کی جان جانے، یاکسی عضو کے تلف ہونے کا ظنِ غالب ہو، تو اس صورت میں عورت کا آپریشن(Operation) کرادینا تا کہ استقرارِ حمل نہ ہو، جائز ہے۔(۲)
آپ نے جو حالات لکھے وہ ایسے نہیں ہیں کہ جن کی وجہ سے آپ کے لیے بچہ دانی نکلوانا (دائمی منع حمل) جائز ہو، کیوں کہ آپ کے لیے ان حالات سے بچنے کی دوسری راہیں موجود ہیں، مثلاً: آپ دوسرا نکاح کرسکتے ہیں(۳) ،تا کہ پہلی بیوی سے ہم بستری نہ ہو، اور نہ ہی ان حالات کا سامنا ہو جو آپ نے بیان کیے ، یا عزل کرسکتے ہیں(۴ )، اور اگر عزل کے باوجود بھی اتفاقاً استقرارِ حمل ہوجائے، تو ۱۲۰/ دن سے پہلے اسقاطِ حمل کراسکتے ہیں(۵)، اور اگر یہ تمام صورتیں بھی ممکن نہ ہوں، تو ایسا آپریشن کروالیں جس میں بچہ دانی نکالنے کی نوبت نہ آئے (یعنی بچہ دانی کے منھ پر گرہ لگوالیں)(۶)، مگر بچہ دانی ہرگز نہ نکلوائیں، ممکن ہے کہ آئندہ حالات اور عمر کے تغیر کی وجہ سے موجودہ تکلیفیں ختم ہوجائیں اور بچہ بہ سہولت پیدا ہو، جب کہ بچہ دانی نکلوانے کی صورت میں ولادت کی توقع ہی ختم ہوجاتی ہے اور افزائشِ نسل کے اعتبار سے عورت کو بے کار کردینا لازم آتا ہے(۷)؛اس لیے اس سے پرہیز کریں!
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَالآنَ بٰشِرُوْهنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللُّٰه لَکُمْ﴾ ۔ (سورة البقرة : ۱۸۷)
ما في ” روح المعاني “ : وفي الآیة دلالة علی أن المباشر ینبغي أن یتحری بالنکاح حفظ النسل- لا قضاء الشهوة فقط ؛ لأنه سبحانه وتعالی جعل لنا شهوة الجماع بقاء نوعنا إلی غایة ۔ (۹۹/۲)
ما في ” فتح الباري “ : (فنهانا رسول اللّٰه ﷺ عن ذلک) الخصاء : هو نهي تحریم بلا خلاف في بني آدم لما تقدم ، وفیه أیضًا من المفاسد تعذیب النفس والتشویه مع إدخال الضرر الذي قد یفضي إلی الهلاک ۔۔۔۔۔۔۔ فیه إبطال من الرجولیة وتغییر خلق اللّٰه وکفر النعمة ۔ (۱۴۹/۹)
ما في ” حجة اللّٰه البالغة “ : وکذلک جریان الرسم بقطع أعضاء النسل واستعمال الأدویة القامعة الباء ة والتبتل وغیرها تغییر لخلق اللّٰه عز وجل وإهمال لطلب النسل ۔
۲۳۴/۲ ، آداب المباشرة)
(۲) ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : الضرورات تبیح المحظورات۔ (۳۰۷/۱)
(۳) ما في ” القرآن الکریم“ : ﴿فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآءِ مَثْنیٰ وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ﴾۔ (سورة النساء :۳)
ما في ” التفسیر القشیري “ : أباح اللّٰه للرجال الأحرار التزوج بأربع في حالة واحدة وأوجب العدل بینهم ۔ (۱۹۵/۱)
(۴) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : فإن کان لغیر حاجة کره ۔ (۸۱/۳۰)
(۵) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : یباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام نطفة أو مضغة أو علقة لم یخلق له عضو وخلقه لا یستبین إلا بعد مائة وعشرین یومًا ۔
(۳۵۶/۵ ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات وفیه العزل وإسقاط الولد)
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : وهل یباح الإسقاط بعد الحمل ؟ قال : یباح ما لم یتخلق شيء منه ۔۔۔۔۔۔ ولا یکون ذلک إلا بعد مائة وعشرین یومًا ۔ (۳۱۸/۶)
(۶) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : فإن کان لغیر حاجة کره ۔ وهو قول عمر وعلي وابن عمر وابن مسعود ومالک ، وهو الرأي الثاني للشافعیة ، وبه قال الحنفیة ۔ (۸۱/۳۰)
(جدید فقهی مباحث :۲۸۲/۱)
وما في ” الموسوعة الفقهیة “ : إن کان العزل بدون عذر فلأنه وسیلة لتقلیل النسل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والعذر في العزل یتحقق في الأمور التالیة : إذا کانت المرأة یمرضها الحمل أو یزید في مرضها ۔ إذا خشي علی الرضیع من الضعف ۔ إذا فسد الزمان وخشي فساد ذریته ۔(۸۲/۳۰ ، عزل)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : تنبیه : أخذ في النهر من هذا ومما قدمه الشارح عن الخانیة والکمال : أنه یجوز لها سدّ فم رحمها کما تفعله النساء مخالفًا لما بحثه في” البحر“ من أنه ینبغي أن یکون حرامًا بغیر إذن الزوج قیاسًا علی عزله بغیر إذنها ۔(۲۵۲/۴ ، کتاب النکاح ، مطلب في حکم إسقاط الحمل ، ط : دار الکتاب دیوبند)
(۷) (فتاویٰ محمودیه: ۲۹۰/۱۸) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۲۱ھ
