اُمیدوار سے ووٹ (Vot)کے بدلے پیسے لینا شرعاً کیسا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۱۴۲)

سوال:

۱-ووٹ(vot) کا شرعی حکم کیا ہے؟

۲-اُمیدوار حضرات ووٹر (voter)کو کچھ اخراجات دیتے ہیں، تا کہ وہ ان کو ووٹ (vot) دیں، اس طرح کا لین دین شریعت میں کہاں تک صحیح ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-شرعی نقطہٴ نظر سے ووٹ کی حیثیت شہادت اور گواہی کی سی ہے ، یعنی ووٹ دینا یہ اس بات کی شہادت دینا ہے کہ وہ آدمی اس ذمہ داری کو کامیابی کے ساتھ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے(۱)، اور جس طرح جھوٹی گواہی دینا ،اور ضرورت کے موقع پر شہادت کو چھپانا ناجائز وحرام ہے(۲)، اسی طرح ایک نااہل، ظالم، فاسق اور غلط آدمی کو ووٹ (Vot) دینا گناہِ عظیم ہے(۳)، اور ایک اچھے اور قابل آدمی کو ووٹ (Vot)دینا ثوابِ عظیم ہے، بلکہ ایک فریضہٴ شرعیہ ہے۔(۴)

۲-ووٹ (Vot)کی خریدوفروخت حرام ہے؛ اس لیے کہ بیع میں عوضین کا مال ہونا ضروری ہے، شریعت کی نگاہ میں مال وہ ہے جس کی طرف انسانی طبیعت مائل ہو اور بوقتِ حاجت اس کا ذخیرہ کرنا ممکن ہو (۵)، اوریہ بات عیاں ہے کہ ووٹ (Vot)مال نہیں ہے، تو ووٹ(Vot) دینے کے عوض کچھ لینا محض رشوت ہوگا، جس کا لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے(۶)، نیز ووٹ (Vot) کی حیثیت شہادت کی ہے اور شہادت پر اُجرت لینا بھی جائز نہیں ہے۔ (۷)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الشهادة إخبار صدق لإثبات حق۔ (۷۰/۱۱)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ﴾۔ (سورة الحج :۳۰)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال اللّٰه عزوجل : ﴿وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ﴾ ۔ والزور الکذب، وذلک عام في سائر وجوه الکذب، وأعظمها الکفر باللّٰه والکذب علی اللّٰه عز وجل، وقد دخل فیه شهادة الزور۔ (۳۱۴/۳ ، باب شهادة الزور، ط : مکتبة شیخ الهند دیوبند)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : قوله علیه السلام : ” الکبائر الإشراک باللّٰه، وعقوق الوالدین ، وقتل النفس ، والیمین الغموس “ ۔ رواه البخاري ۔ وفي روایة أنس : ” شهادة الزور “ ۔(۲۲/۱)

ما في ” السنن لأبي داود “ :قوله علیه السلام :” عدلت شهادة الزور بالإشراک باللّٰه ثلاث مرات،ثم قرأ: ﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ﴾۔(ص/۵۰۶)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : وقال عمر بن الخطاب في الشاهد الزور: یضرب ظهره ، ویحلق رأسه ، ویسخم وجهه ، ویطال حبسه ۔ (۳۱۵/۳)

ما في ” القرآن الکریم “:﴿وَلَا تَکْتُمُوا الشَّهادَةَ وَمَنْ یَّکْتُمْها فَإِنَّه اٰثِمٌ قَلْبُه﴾۔ (سورة البقرة : ۲۸۳)

ما في ” السنن لأبي داود “ : قوله علیه السلام : ” ألا أخبرکم بخیر الشهداء الذي یأتي شهادته أو یخبر بشهادته قبل أن یسألها “ ۔ (ص/۵۰۶)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویجب أداء ها بالطلب ولو حکمًا کما مر ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (لو حکمًا کما مر) أي من أنه لو خاف فوت الحق ، والطالب لا یعلم بها لزمه أن یشهد بلا طلب ۔ (۸۲/۱۱ ، ۸۳ ، کتاب الشهادات ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ ۔ (سورة المائدة:۲)

ما في ” جمع الفوائد “ : قوله علیه السلام : ” من مشی مع ظالم لیعینه وهو یعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام “ ۔ (۶۹۱/۲)

(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی﴾ ۔ (سورة المائدة :۲)

(۵) ما في ” تبیین الحقائق “ : البیع مبادلة المال بالمال بالتراضي ۔ (۲۷۵/۴)

ما في ” رد المحتار “ : المال ما یمیل إلیه الطبع ، ویمکن ادخاره لوقت الحاجة ۔ (۷/۷)

(۶) ما في ” السنن لأبي داود “ : ” لعن رسول اللّٰه ﷺ الراشي والمرتشي “ ۔ (ص/۵۰۴)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الرشوة علی أربعة أقسام : منها ما هو حرام علی الآخذ والمعطي ، وهو الرشوة علی تقلید القضاء والإمارة ۔ (۳۳/۸)

(۷) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : تحمل الشهادة فرض علی الکفایة کأدائها وإلا لضاعت الحقوق ، وعلی هذا الکاتب إلا أنه یجوز أخذ الأجرة علی الکتابة دون الشهادة فیمن تعینت علیه بإجماع الفقهاء ، وکذا من لم تتعین علیه عندنا ۔ (۷۶/۱۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۱/۱۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔