جس عورت کو داڑھی کے بال نکل آئے وہ صاف کرسکتی ہے یا نہیں؟

(فتویٰ نمبر: ۱۱۹)

سوال:

ہمارے گاوٴں میں ایک دو عورتوں کو داڑھی نکل آئی ہے، جو ان کے چہرے پر بڑی بدنما اور خراب لگتی ہے، وہ انہیں کاٹتی بھی نہیں ہیں، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم جامعہ کے دارالافتا سے رجوع کرکے فتویٰ طلب کرو کہ:

کیا عورت ڈاڑھی رکھ سکتی ہے؟

اگر نہیں رکھ سکتی ہے، تو پھر کس چیز سے صاف کرے؟

اور اس مسئلے میں باکرہ اور ثیبہ کا حکم ایک ہے یا الگ الگ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اگر کسی عورت کے چہرے پر داڑھی مونچھ نکل آئیں، تو اس کو صاف کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل و مستحب ہے، حکمِ مذکور میں باکرہ وثیبہ کی کوئی قید نہیں ہے، بلکہ سب یکساں ہیں، مقصد بالوں کی صفائی ہے، خواہ کسی بھی طرح سے ہو، مگر بہتر یہ ہے کہ صابن، پاوڈر یا کریم وغیرہ سے صفائی کرے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فلوکان في وجهها شعر ینفر زوجها عنها بسببه ، ففي تحریم إزالته بعد؛ لأن الزینة للنساء مطلوبة للتحسین ، إلا أن یحمل علی ما لا ضرورة إلیه لما في نتفه بالمنماص من الإیذاء ، وفي تبیین المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام ، إلا إذا نبتت للمرأة لحیة أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب ۔ اه ۔

(۵۳۶/۹ ، کتاب الحظر والإباحة)

ما في ” بذل المجهود “ : إذا نبتت اللحیة للمرأة فیستحب لها حلقها ۔(۳۳۷/۱ ، کتاب الطهارة، باب السواک من الفطرة)

(مرقاة المفاتیح:۸۴/۲، کتاب الطهارة، باب السواک)

(أحسن الفتاویٰ :۷۵/۸، فتاویٰ محمودیه :۴۲۲/۱۹) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۷/۲۵ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔