(فتویٰ نمبر: ۱۸۵)
سوال:
مندجہ ذیل کھیلوں میں سے کون سے کھیل جائز ہیں اور کون سے ناجائز ہیں؟
کرکٹ( Cricket)،فٹ بال(Football)،ہاکی(Hockey)، شٹل کاک (Shuttlecock) ، شطرنج (Chees)، کیرم(Carom Board)۔
الجواب وباللہ التوفیق:
مشائخِ حنفیہ کے نزدیک کھیلوں سے متعلق ضابطہ یہ ہے کہ :
۱-ایسا کھیل جس میں دینی ودنیوی کوئی مصلحت ومقصد نہ ہو او ر نہ اس کی غرض، غرضِ صحیح ہو ، بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف وقت گزاری (Time Pass) ہو، تو ایسا کھیل حرام یا مکروہِ تحریمی ہے ۔
۲– ایساکھیل جس میں کوئی مصلحت وغرضِ دینی ودنیوی تو ہو، مگر اس کی ممانعت کتاب وسنت سے ثابت ہو، تو وہ حرام یا مکروہِ تحریمی ہے۔
۳-ایسا کھیل جس میں لوگوں کے لیے مصلحت وفائدہ تو ہو، مگر تجربے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہو کہ اس کے نقصانات، اس کے منافع اور فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، اور ان کو کھیلنا انسان کو اللہ کی یاد، نمازوں اور مساجد سے غافل کردیتا ہے، تو یہ کھیل بھی حرام یا مکروہ ِتحریمی ہوگا۔
۴-ایسا کھیل جس میں لوگوں کے لیے مصلحت وفائدہ ہو اور اس کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ نہ ہوں اور اس کو کھیلنے کا مقصد محض وقت گزاری ہو، مصلحت وفائدہ کو حاصل کرنا نہ ہو، تویہ مکروہ ہے، اور اگر مصلحت وفائدے کو حاصل کرنا مقصد ہو، تو مباح ہے، بشرطے کہ یہ کھیل کفار وفساق کا شعار نہ ہو، اور اس میں ہارجیت پر مال کی شرط نہ ہو۔
اس ضابطے کے تحت سوال میں مذکور اور اس کے علاوہ دوسرے کھیلوں کا حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔
(تکملة فتح الملهم : ۴۳۵/۴ ، کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالنرد شیر، حکم الألعاب في الشریعة) فقط
واللہ أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۲۰/۲/ ۱۴۳۰ھ
