یومِ عاشقاں/ ویلنٹائن ڈے (Valentineday) کا شرعی حکم کیا ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۲۰)

سوال:

۱۴/ فروری کا دن ”ویلنٹائن ڈے “کے نام سے منایا جاتا ہے، جس میں مرد وعورت آزادانہ طورپر ملتے ہیں، ایک دوسرے سے اظہارِ محبت کرتے ہیں جس کے لیے متعدد طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، مثلاً: لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے گلاب پیش کرتے ہیں، کارڈ (Card) بھیجتے ہیں، موسیقی(Music) کی دھن کا سماں باندھا جاتا ہے اور کیک (Cake) کاٹنے وغیرہ کی رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔

یورپ (Europe)کی تاریخ میں کبھی ۱۴/ فروری ۲۰۷ء کو ”ویلنٹائن“ (Valentineday) نے اپنی محبوبہ کو خط لکھا تھا، اس کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔

نیز اس جذبے کے اظہار کے لیے بھی اسے منایا جاتا ہے کہ دوسری صدی عیسوی میں روم کے بادشاہ ”کلاڈیوس “(Claudius)نے نوجوانوں کو فوج میں زیادہ تعداد میں بھرتی کرنے کے لیے کنوارے مردوں کے لیے شادی کرنے پر پابندی لگادی تھی، تو ویلنٹائن(Valentineday) رات کی تنہائیوں میں مردوں اور عورتوں کو جمع کرکے ان کی شادی کرادیا کرتا تھا، بادشاہ کے حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے اسے قتل کردیا گیا۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ۱۴/ فروری کا دن ویلنٹائن (Valentineday)کی یاد کے طور پر منانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ اس نے رشتہٴ ازدواج کے فطری تقاضے کے اِحیا کے لیے اپنی جان دی تھی۔

الجواب وباللہ التوفیق:

۱۴/ فروری سے متعلق جتنے اعمال سوال میں مذکور ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دن کسی کی یاد میں کم اور بطورِ عید وخوشی زیادہ منایا جاتا ہے(۱)،یہ اس لیے کہ جتنے لوگ اسے مناتے ہیں انہیں اس کی تاریخی حقیقت وپس منظر معلوم نہیں ہے، مسلمانوں کے لیے اس میں کسی بھی طرح کی شرکت اور اس کی موافقت نقلاً،اجماعاً اور عقلاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ منکرات ومنہیاتِ شرعیہ پر مشتمل ہے، اور اس میں شرکت وموافقت وقوع فی الحرام کا سبب وذریعہ ہے، اور شریعتِ اسلامیہ نے حرام وناجائز کے اسباب وذرائع کو بھی حرام قرار دیا، تاکہ اس کی حرمت قائم رہ سکے۔(۲)

نقلاً:اس لیے جائز نہیں کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک (خالص) شریعت اور راہ رکھی تھی۔“(۳)

اور ایک جگہ ارشاد ہے:

”اور ہر ایک کے لیے کوئی رُخ ہوتا ہے جدھر وہ متوجہ رہتا ہے۔“(۴)

یہ دونوں آیتیں اس پر دال ہیں کہ ہر قوم وملت کی ایک عید ہوتی ہے، جس کے ساتھ وہ قوم مختص ہوتی ہے، جب یہود کی ایک عید ہے اور نصاریٰ کی ایک عید ہے اور وہ ان کے ساتھ مختص ہیں، تو ہم اس عید میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتے، جیسا کہ ان کے قبلے اور شریعت میں ان کے ساتھ شرکت ہمارے لیے روا اور جائز نہیں ہے۔

ارشادِ نبوی ہے:” إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَهٰذَا عِیْدُنَا(۵)۔ ” إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَإِنَّ عِیْدَنَا هذَا الْیَوْمُ “-”بے شک ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور ہماری عید یہ دن ہے۔“(۶)

دونوں حدیثوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ”هٰذَا عِیْدُنَا“ میں تعریف بالاضافت اور ”ہٰذَا الْیَوْم“ میں تعریف باللام استغراق وتوقیف کا تقاضا کررہی ہے، یعنی ہماری عید یہی دن ہے، دیگر ایام کو بطورِ عید منانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ (اقتضاء الصراط المستقیم: ص/۱۹۳، ۱۹۴)

اجماعاً: اس لیے جائز نہیں کہ اہلِ علم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ارضِ عرب میں یہود ونصاریٰ آباد تھے، جب حضرتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہٴ خلافت آیا، تو آپ نے انہیں ارضِ پاک سے نکال باہر کیا، یہ لوگ اپنے قیام کے زمانے میں اپنی عیدو تہوار منایا کرتے تھے، مگر اہلِ اسلام ان کی عیدوں میں ذرہ بھی شرکت نہیں کیا کرتے تھے اور عدمِ شرکت کا یہی عمل اجماعِ صحابہ ہے۔ (اقتضاء الصراط المستقیم: ص/۱۹۸)

عقلاً: اس لیے جائز نہیں ہے کہ جن لوگوں نے اِحیائے دین جیسے عظیم فریضے کو انجام دینے کی خاطر اپنی جانیں دی تھیں، شریعت ان کے ایامِ شہادت کو بطورِ یاد وعید منانے کی اجازت نہیں دیتی، تو اس شخص کے یومِ قتل کو بطورِ یاد منانے کی اجازت کیسے دے گی، جس نے اپنی جان احیائے تقاضہٴ فطری کی خاطر ضائع کی تھی، جب کہ دین ہر اعتبار سے مقدم ہے۔(معالم ضوابط الاجتہاد لشیخ الاسلام ابن تیمیہ:ص/ ۱۲۸)

نیز امتِ مسلمہ کی اپنی ایک تہذیب وثقافت ہے جس سے اس کا امتیاز واختصاص قائم ہے، مسلمان ہوتے ہوئے غیروں کی تہذیب، طور وطریق اور عادات واَطوار کو اپنانا اُسے عند اللہ مبغوض قرار دیتا ہے،کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

”تین لوگ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وناپسندیدہ ہیں؛ محارمِ خداوندی کی بے عزتی کرنے والا،اسلام میں جاہلیت کی رسم ورواج کا طالب، ناحق کسی مسلمان کے خون کا طالب۔“(۷)

 نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 ” مَنْ تَشَبَّه بِقَوْمٍ فَهوَ مِنْهمْ “ ”جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے ۔“(۸)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” التعریفات الفقهیة “ : ” العید کل یوم فیه جمع أو تذکار لذي فضل“ ۔ (ص/۱۵۵)

(۲) ما في ” اعلام الموقعین “ : وسیلة المقصود تابعة للمقصود وکلاهما مقصود۔ (۱۷۵/۳)

ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : الأمور بمقاصدها ۔ (۱۳/۱)

(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهاجًا﴾ ۔ (سورة المائدة: ۴۸)

(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلِکُلٍّ وِّجْهةٌ هوَ مُوَلِّیْها﴾ ۔ (سورة البقرة : ۱۴۸)

(۵) (صحیح البخاري : ۱۳۰/۱ ، باب سنة العیدین لأهل الإسلام ، الصحیح لمسلم:۲۹۱/۱ ، باب الرخصة في اللعب الذي لا معصیة فیه ، سنن ابن ماجة: ص/۱۳۶ ، ۱۳۷ ، باب الغناء والدف ، سنن النسائي : ۱۸۱/۱ ، ضرب الدف یوم العید)

(۶) (اقتضاء الصراط المستقیم : ص/۱۹۳)

(۷) ما في ” مشکوة المصابیح “ : ” أبغض الناس إلی اللّٰه ثلاثة : ملحدٌ في الحرم، مبتغٍ في الإسلام سنة الجاهلیة ، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “۔ رواه البخاري ۔(ص/۲۷ ، کتاب الإیمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنة)

(۸) (سنن أبي داود :ص/۵۵۹ ، المعجم الأوسط للطبراني : ۱۵۱/۶ ، رقم : ۸۳۲۷، مجمع الزوائد : ۳۴۶/۱۰) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔ ۱۴۲۹/۱/۲۰ھ

الجواب صحیح: عبد القوم اشاعتی۔ ۱۴۲۹/۱/۲۰ھ

اوپر تک سکرول کریں۔