(فتویٰ نمبر: ۳۶)
سوال:
ہمارے یہاں ایک امیر زادہ نوجوان جو کہ حافظِ قرآن بھی ہے، رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن بھی سناتا ہے، شرعی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر موبائل کا کاروبار کرتا ہے، عید الا ضحی کے موقع پر چند روز پہلے لڑاکو قسم کے مینڈھے خرید کر لاتا ہے اور علاقے کے دوسرے مینڈھوں سے لڑواتا ہے، اور باہر کے لڑکے بھی اپنے جانورلے کر ہمارے کمپاوٴنڈ (Compound) میں آکر لڑواتے ہیں، یہ حافظ صاحب جانور لڑوانے میں بہت مشہور ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب جانور آپس میں ایک دوسرے کو ٹکر لگاتے ہیں، تو دل دہل جاتا ہے، جانور زخمی ہوجاتا ہے اور اس کے سر سے کافی خون بھی نکلتا ہے، یہ سلسلہ تقریباً ۵/ روز تک،روزانہ رات کو ۲ /سے ۳/ بجے تک چلتا ہے، مزید اس پر طرہ یہ کہ حافظ صاحب اپنے موبائل میں لڑائی کے وقت کی ویڈیو (Video) بھی محفوظ کرلیتے ہیں اور اپنے دوستوں کے موبائل میں منتقل کردیتے ہیں، نیزوہ جماعت کے کام سے بھی وابستہ ہیں، کبھی کبھی ہماری مسجد میں ایک وقت کی امامت بھی کرلیتے ہیں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے حافظ صاحب کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا وہ امامت کے قابل ہیں یانہیں؟
نوٹ-: مجھے حافظ صاحب سے کوئی اختلاف نہیں ، بلکہ اپنی نماز کی فکر ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق:
جانوروں کو آپس میں لڑا کر اس سے لطف اندوزہونا(۱)، اور اس لڑائی کے منظر کی تصویر کشی کرکے اپنے دوست و احباب کو بذریعہٴ میسیج (Message)منتقل کرنا شرعاًحرام اورگناہِ کبیرہ ہے(۲)، جو شخص اِس طرح کے فعل کا مرتکب ہو اُس کے فاسق ہونے کی وجہ سے اس کی امامت مکروہِ تنزیہی ہے، ہاں !اگر شخصِ مذکور اپنے گناہ سے توبہ کرلے، تو اس کی امامت بلاکراہت درست ہوگی۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” السنن لأبي داود “ : عن ابن عباس – رضي اللّٰه عنهما – قال : ” نهی رسول اللّٰه ﷺ عن التحریش بین البهائم “ ۔
(۳۴۶/۱ ، کتاب الجهاد ، باب في التحریش بین البهائم)
(جامع الترمذي : ۳۰۰/۱ ، باب ما جاء في کراهیة التحریش بین البهائم)
ما في ” قوت المغتذي علی هامش الترمذي “ : قوله : (نهی عن التحریش بین البهائم) هو الإغراء وتهییج بعضها علی بعض کما یفعل بین الجمال والکباش والدیوک وغیرها ۔۱۲۔
(۳۰۰/۱)
(عون المعبود شرح سنن أبي داود :۱۰۵/۷)
ما في ” تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي “ : ووجه النهي أنه إیلام للحیوانات وإتعاب لها بدون فائدة بل مجرد عبث ۔ (۳۶۴/۵ ، رقم : ۱۷۰۸)
ما في ” بذل المجهود في حل سنن أبي داود “ : وإنما نهی عن ذلک ؛ لأنه من الملاهي ، وفیه إیلام الدواب وإهلاکهم ، وإن کان بشرط من الجانبین فهو قمار أیضًا ۔
(۱۳۷/۹، رقم : ۲۵۶۲)
(فضل المعبود شرح سنن أبي داود : ۵۸/۴)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وکره کل لهو لقوله علیه السلام : ” کل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة : ملاعبته أهله ، وتأدیبه لفرسه ، ومناضلته بقوسه “ ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : وکره کل لهو ۔ أي کل لعب وعبث ۔۔۔۔۔۔۔ حرام ۔ (۵۶۶/۹ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وفي السراج : ودلت المسئلة أن الملاهي کلها حرام ۔ (در مختار) ۔ (۵۰۲/۹)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ولا خلاف بین الفقهاء في حرمة التحریش بین البهائم بتحریض بعضها علی بعض وتهییجه علیه ؛ لأنه سفه ، ویوٴدي إلی حصول الأذی للحیوان ، وربما أدی إلی إتلافه بدون غرض مشروع ۔ (۱۹۵/۱۰)
ما في ” أحکام المسابقات في الشریعة الإسلامیة وتطبیقاته المعاصر “ : والتحریش بین البهائم عام ، فیدخل ما ذکر ه الفقهاء کنطاح الکباش ونقار الدیکة ، وما لم یذکروه مما یستحدث کالتحریش بین الکلاب أو الطیور وغیرها من البهائم ۔ (ص/۱۱۰ ، تألیف : عبد الصمد بن محمد بلحاجي)
(روضة الطالبین للنووي : ۵۳۳/۷ ، کتاب السبق والرمي ، الباب الأول في السبق)
(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : قوله علیه السلام : ” إن أشد الناس عذابًا عند اللّٰه المصورون “ ۔ (۸۸۰/۲)
ما في ” شرح النووي علی هامش الصحیح لمسلم “ : قال أصحابنا وغیرهم من العلماء : تصویر صورة الحیوان حرام شدید التحریم ، وهو من الکبائر ؛ لأنه متوعد علیه بهذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث ، وسواء صنعه بما یمتهن أو بغیره ، فصنعته حرام بکل حال ؛ لأن فیه مضاهاة لخلق اللّٰه تعالی ، وسواء کان في ثوب أو بساط أو درهم أو دینار أو فلس أو إناء أو حائط أو غیرها ۔ (۱۹۹/۲)
(رد المحتار : ۴۱۶/۲ ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، مطلب إذا تردَّد الحکم بین سنة وبدعة)
(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویکره إمامة عبد ۔۔۔۔۔۔ وفاسق ۔ اه ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (ویکره) تنزیها لقوله في الأصل إمامة غیرهم أحب إلي ۔۔۔۔۔ ثم قال : فکره لهم التقدم ، ویکره الاقتداء بهم تنزیها ، فإن أمکن الصلاة خلف غیرهم فهو أفضل ، وإلا فالاقتداء أولی من الإنفراد ۔(۲۹۸/۲، باب الإمامة ) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۳/۳/ ۱۴۲۹ھ
الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی۔۳/۳/ ۱۴۲۹ھ
