(فتویٰ نمبر: ۲۱)
سوال:
تمباکو کھانا اور سگریٹ نوشی کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟یعنی ان کا استعمال حرام ہے ، یا مکروہ ، یا مباح؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں!
الجواب وباللہ التوفیق:
تمباکو کی اقسام واغراض اور خواص مختلف ہوتی ہیں؛ اس لیے اس کے استعمال میں مختلف اقوال ہیں،لیکن غالباً اس کا استعمال غرضِ صحیح یعنی علاج وغیرہ کے لیے نہیں ہوتا ہے، اور شریعتِ اسلامیہ اپنے ماننے والوں کو ہر ایسی چیز کھانے اور پینے سے منع کرتی ہے، جو اُنہیں فوراً یا آہستہ آہستہ ہلاک کردے۔
ارشادِ باری تعالیٰ : ﴿وَلا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا﴾ ۔ ”اپنے آپ کو قتل مت کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے۔ “ (سورة النساء : ۲۹)اور﴿وَلا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلیَ التَّھْلُکَةِ﴾ ۔” اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کوہلاکت میں مت ڈالو۔“ (سورة البقرة : ۱۹۵) اس پر شاہد ہے؛ اس لیے اگر تمباکو کے استعمال سے نشہ ہو، تو اس کا استعمال حرام ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے : ” کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ “ ۔ ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔“ (صحیح مسلم: ۱۶۷/۲، سنن أبی داود: ۵۱۸/۲، صحیح بخاری : ۹۰۴/۲) اور اگر نشہ نہ ہو تب بھی اس میں مال کو ضائع کرنا اور دوسروں کو تکلیف پہنچانا، دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں(۱)؛ اس لیے اس کا استعمال ممنوع ومکروہ ہے۔
سگریٹ بلا ضرورت (شوقیہ)پینا مکروہ ہے، اور منہ کی صفائی کے بغیر مسجد میں جانا جس کی بدبو دوسروں کے حق میں اذیت کا سبب بنے، مکروہ وممنوع ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” صحیح البخاري “ : عن المغیرة بن شعبة – رضي اللّٰه عنه – قال :قال النبي ﷺ : ” إن اللّٰه حرم علیکم عقوق الأمهات ، ووأد البنات ، ومنع وهات ، وکره لکم قیل وقال ، وکثرة السوٴال ، وإضاعة المال “ ۔
(۳۲۴/۱ ، کتاب الاستقراض وأداء الدیون ، باب ما ینهی عن إضاعة المال ، ط : بلال دیوبند، و: ص/۴۲۲ ، رقم : ۲۴۰۸ ، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت)
ما في ” السنن لابن ماجة “ : ” لا ضرر ولا ضرار “ ۔ (ص/۱۶۹)
(۲) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن جابر – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” من أکل من هذه الشجرة المنتنة ، فلا یقربن مسجدنا ، فإن الملائکة تتأذی مما یتأذی منه الإنس “ ۔(ص/۶۸ ، کتاب الصلاة ، باب المساجد ومواضع الصلاة)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وأکل نحو ثوم ویمنع منه ، کذا کل موذ ، ولو بلسانه ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : وقال ابن عابدین الشامي رحمه اللّٰه تعالی : قوله : (وأکل نحو ثوم) أي کبصل ونحوه مما له رائحة کریهة للحدیث الصحیح في النهي عن قربان آکل الثوم ، والبصل المسجد ، قال الإمام العیني في شرحه علی الصحیح البخاري : قلت : علة النهي أذی الملائکة وأذی المسلمین ۔(۴۳۵/۲ ، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، مطلب في الغرس في المسجد)
(الصحیح لمسلم :۲۰۹/۱) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۱/۲۸ھ
