(فتویٰ نمبر: ۵۲)
سوال:
۱-سمندری خوراک میں ایک جھینگا بھی ہے، اس کے حلال یا حرام ہونے کے سلسلے میں مختلف باتیں سننے میں آتی ہیں ؛ اس لیے اس کا حکمِ شرعی واضح فرماکر عند اللہ ماجور ہوں!
۲-نیز پائے جنہیں گرم پانی میں جوش دے کر ان کے بال چھری سے کھرچ دیے جاتے ہیں، لیکن چمڑا ہڈی سے جڑا ہوا رہتا ہے ،صرف بال نوچ دیے جاتے ہیں،توکیا ایسے پائے کھاسکتے ہیں؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-احناف کے نزدیک دریائی جانوروں میں صرف مچھلی جائز ہے، جھینگے کی بابت علما کا اختلاف ہے کہ آیا وہ مچھلی ہی کی ایک قسم ہے یا نہیں؟ جن حضرات نے جھینگے کو مچھلی کی قسموں میں شمار کیا ہے وہ جائز کہتے ہیں اور جنہوں نے مچھلی کی قسم شمار نہیں کیا وہ ناجائز کہتے ہیں۔(۱)
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی صحیح مسلم کی شرح” تکملة فتح الملہم“ میں فرماتے ہیں:
”جواز کا قول اس لیے راجح معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے مسائل میں شریعت کا مزاج یہ ہے کہ وہ لوگوں کے عام عرف کا اعتبار کرتی ہے، فنی باریکیوں کو نہیں دیکھتی، بنیادی طور پر یہ مسئلہ اجتہادی ہے کہ ائمہٴ ثلاثہ (امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کے نزدیک جھینگے کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے، نیز کسی مسئلے میں فقہا کا اختلاف تخفیف (سہولت) کا باعث ہے، البتہ پھر بھی جھینگا کھانے سے اجتناب کرنا زیادہ مناسب، اَحوط اور زیادہ اولیٰ ہے، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم“ ۔(۲)
حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”جھینگا مچھلی کی طرح انڈے سے پیدا ہوتا ہے، نیز مچھلی کی دیگر علامتیں بھی جھینگے میں پائی جاتی ہیں؛ اس لیے جھینگا حرام اور واجب الترک نہ ہوگا، یہ فتویٰ ہے اور بچنے میں تقویٰ ہے۔“(۳)
وضاحت-: ”فتویٰ“جو اصولِ اربعہ یعنی قرآن ، حدیث، اجماع اور قیاس سے ثابت ہو۔
”تقویٰ“ جہاں شبہ ہو، اس سے بھی پرہیز کرے۔
۲-جس جانور کا گوشت کھانا جائز ہے، اس کا چمڑا بھی گوشت کے ساتھ کھالیا جائے، تو مضائقہ نہیں درست ہے؛ اس لیے پائے (جن کو گرم پانی میں جوش دے کر ان کے بال کھرچ دیے جائیں)کا کھانا بھی جائز ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” تکملة فتح الملهم “ : وأما الروبیان أو الإربیان الذي یسمی في اللغة الأردیة ” جھینگا “ وفي الإنکلیزیة Shrimp أو Prawn ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وأما عند الحنفیة : فیتوقف جوازه علی أنه سمک أو لا ؟ فذکر غیر واحد من أهل اللغة أنه نوع من السمک ، فقال الدمیري : الروبیان هو سمک صغیر جدًا أحمر ۔ (حیاة الحیوان الکبری : ۳۵۳/۱ ، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت ، الطبعة الثالثة ۱۴۲۲ ھ ، ۲۰۰۱ء ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وأفتی غیر واحد من الحنفیة بجوازه بناء علی ذلک ۔۔۔۔۔۔۔ وإن علم الحیوان الیوم یقسم الحیوانات إلی نوعین کبیرین : الأول ؛ الحیوانات الفقریة(Vertebrate) وهي التي لها عمود فقريّ في الظهر ، ولها نظام عصبي یعمل بواسطته ، والثاني : الحیوانات غیر الفقریة (Invertebrate) التي لیس لها عمود فقريّ ۔۔۔۔۔ وإن السمک یقع في النوع الأول ، والإربیان في النوع الثاني ۔۔۔۔۔۔۔۔ وإن هذه التعریفات لا تصدق علی الإربیان ، وإنه ینفصل عن السمک بأنه لیس من الحیوانات الفقریة ، فلو أخذنا بقول خبراء علم الحیوان فإنه لیس سمکاً ، فلا یجوز علی أصل الحنفیة ۔ (۴۲۶/۹ ، کتاب الصید والذبائح ، باب إباحة میتات البحر ، ط : دار الموٴید ، و دار إحیاء التراث العربي بیروت)
(۲) ما في ” تکملة فتح الملهم “ : وربما یرجح هذا القول بأن المعهود من الشریعة في أمثال هذه المسائل الرجوع إلی العرف المتفاهم بین الناس ، دون التدقیق في الأبحاث النظریة ، ولا سیما في حالة کون المسئلة مجتهدًا فیها من أصلها ، ولا شک أنه حلال عند الأیمة الثلاثة ، وإن اختلاف الفقهاء یورث التخفیف ، غیر أن الاجتناب عن أکله أحوط وأولی وأحری ، واللّٰه سبحانه وتعالی أعلم ۔(۴۲۷/۹، مسألة الروبیان)
ما في ” شعب الإیمان للبیهقي “ : عن أبي الجوزاء عن الحسن بن علي – رضي اللّٰه عنه – قال : سمعت رسول اللّٰه ﷺ یقول : یعني لرجل أتاه : ” دع ما یریبک إلی ما لا یریبک “ ۔(۵۲/۵ ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت ، الطبعة الأولی: ۱۴۱۰ھج ۱۹۹۰ء)
ما في ” رد المحتار “ : وإذا اجتمع المحرم والمبیح غلب المحرم ، وقال علیه الصلاة والسلام : ” دع ما یریبک إلی ما لا یریبک “ ۔
(۳۱۸/۱ ، کتاب الطهارة، مطلب یطلق الدعاء علی ما یشمل الثناء)
ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : العادة محکمة ، وأصلها قوله ﷺ : ” ما رآه المسلمون حسنًا فهو عند اللّٰه حسن “ ۔
(۳۲۸/۱ ، القاعدة السادسة ، الفن الأول في القواعد الکلیة ، النوع الأول)
(فتاویٰ محمودیه:۲۱۲/۱۸، باب الانتفاع بالحیوانات)
(۳) ما في ” قواعد الفقه “ : الفتوی : هو الحکم الشرعي یعني ما أفتی به العالم ، وهي إسم من أفتی العالم إذا بین الحکم ۔ (ص/۴۰۷ ، التعریفات الفقهیة)
وما في ” قواعد الفقه “ : التقوی : هو الاحتراز بطاعة اللّٰه عن عقوبته ، وقد یراد الإخلاص ۔ (ص/۲۳۴)
(۴) ما في ” الفتاوی البزازیة علی هامش الفتاوی الهندیة “ : وذکر بکر رحمه اللّٰه تعالی أن الجلد کاللحم ۔
(۲۹۹/۶ ، کتاب الأضحیة ، السادس في الانتفاع ، ط : رشیدیه کوئٹه و زکریا سهارنفور)
ما في ” رد المحتار “ : والحاصل أن ذکاة الحیوان مطهرة لجلده ولحمه ، إن کان الحیوان مأکولا ۔ اه ۔
(۳۵۸/۱ ، کتاب الطهارة ، باب المیاه ، مطلب في أحکام الدباغة ، ط : بیروت) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۱۲ھ
