گوہ یعنی گھوڑ پھوڑ (Monitor Lizards)کا شرعی حکم!

(فتویٰ نمبر: ۷۶)

سوال:

گوہ (گھوڑ پھوڑ) کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ گوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھائی گئی؛ اس لیے جائز ہے، اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ نہیں کھاسکتے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ: دونوں حضرات میں سے کس کے قول پر عمل کریں؟ عند الاحناف اس کا حکمِ شرعی کیا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

گوہ /گھوڑپھوڑ (Monitor Lizards) کا کھانا ناجائز وحرام ہے، اورجو حضرات اس کی حلت کے قائل ہیں، ممکن ہے کہ ان کے پیشِ نظر روایتِ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہو، جس میں ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر گوہ/گھوڑپھوڑ (Monitor Lizards) کا کھانا ثابت ہے، یا روایتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہو، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لا آکِلُه وَلا أُحَرِّمُه “کہ نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں۔

ان دونوں روایتوں سے جو اباحت وحلت معلوم ہورہی ہے یہ حکم ابتدائی دور کا تھا، بعد میں تمام درندے جانور ناجائز وحرام قرار دیئے گئے ، چنانچہ ابوثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ” نَهی النَّبِيُّ ﷺ عَنْ أَکْلِ ذِيْ نَابٍ مِّنَ السَّبعِ “کہ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ “، جس کے دائرہٴ حرمت میں ضب یعنی گوہ (Monitor Lizards)بھی داخل ہے۔(۱)

نیز حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ : ”کسی صاحب نے ان کو تحفةً گوہ/گھوڑپھوڑ(Monitor Lizards) بھیجا، حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا، تو آپ نے اس کے کھانے سے منع فرمایا، پھرایک سائل آیا، حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے چاہا کہ یہ اس سائل کو دے دیں،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” جو تم خود نہیں کھاتی کیا وہ دوسروں کو کھلانا چاہتی ہو؟ “۔(۲)

اس روایتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گوہ/ گھوڑ پھوڑ (Monitor Lizards)کے کھانے سے منع فرمانا اس کی حرمت وممانعت کی وجہ سے تھا، کراہیتِ طبعیہ کی بنیاد پر نہیں، اگر کراہیتِ طبعیہ کی بنیاد پر ہوتا، تو آپ اس کے تصدق سے منع نہ فرماتے،اور اسی حرمت میں احتیاط ہے(۳)،اور یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی رائے ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” إعلاء السنن “ : عن عبد الرحمن بن شبل : ” أن النبي ﷺ نهی عن أکل الضب “ ۔ رواه أبو داود وسکت عنه ۔(۱۷۸/۱۷ ، با ب النهي عن أکل الضب)

(۲) ما في ” کتاب المبسوط “ : عن عائشة – رضي اللّٰه تعالی عنها – أنه أهدي لها ضب فسألت رسول اللّٰه ﷺ عن أکله فکرھه ، فجاء سائل فأرادت أن تطعمه إیاه ، فقال صلوات اللّٰه وسلامه علیه : ” أ تطعمین ما لا تأکلین ؟ “۔وبهذا نأخذ فنقول : لا یحل أکل الضب ۔

وقال الشافعي رحمه اللّٰه تعالی : یحل لحدیث ابن عمر – رضي اللّٰه تعالی عنهما – أن النبي ﷺ سئل عن الضب ، فقال : ” لم یکن من طعام قومي فأجد نفسي تعافه فلا أحله ولا أحرمه “ ۔ وفي حدیث ابن عباس رضي اللّٰه تعالی عنهما قال : ” أکل الضب علی مائدة رسول اللّٰه ﷺ ۔ وفي الآکلین أبو بکر رضي اللّٰه تعالی عنه کان ینظر إلیه ویضحک “ ۔ واعتمادنا علی حدیث عائشة رضي اللّٰه تعالی عنها فیه یبین أن امتناع رسول اللّٰه ﷺ عن أکله لحرمته ، لا لأنه کان یعافه ، ألا تری أنه نهاها عن التصدق به ، ولو لم یکن کراهیة الأکل للحرمة لأمرها بالتصدق به کما أمرها بما في شاة الأنصاري بقوله : ” أطعموها الأساری “ ۔

والحدیث الذي فیه دلیل الإباحة محمول علی أنه کان قبل ثبوت الحرمة ، ثم الأصل أنه متی تعارض الدلیلان ، أحدهما یوجب الحظر والآخر یوجب الإباحة ، یغلب الموجب للحظر ۔

(۲۵۴/۱۱ ، کتاب الصید ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت ، بدائع الصنائع : ۱۸۴/۶۱۸۶ ، کتاب الذبائح والصیود ، رد المحتار : ۴۴۳/۹ ، کتاب الذبائح ، الفتاوی الهندیة : ۵/۲۸۹ ، الباب الثاني في بیان ما یوٴکل من الحیوان وما لا یوٴکل، إعلاء السنن : ۱۷۸/۱۷۱۷۹ ، باب النهي عن أکل الضب)

(۳) ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : إذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام ۔ (۳۷۳/۱ ، القاعدة الثانیة ، ط : مکتبة فقیه الأمت دیوبند) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۴/۱۵ھ

اوپر تک سکرول کریں۔