”سائی بابا “(Sai Baba) کے نام پر پکا ہوا کھانا خریدنا یا کھانا!

(فتویٰ نمبر: ۱۹۷)

سوال:

غیر اللہ مثلاً: ”سائی بابا“ (Sai Baba) کے نام پر چندہ جمع کرکے اس کو مختلف مصارف میں خرچ کیا جاتا ہے، جیسے مندر کی تعمیر، اس کی آرائش اور کھانابنانا وغیرہ، جو کھانا بنایا جاتا ہے وہ کم قیمت میں فروخت بھی کیا جاتاہے، تو اُس کھانے کو خریدنا اور کھانا کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق:

اس طرح کا کھانا چوں کہ غیر اللہ کے تقرب کی خاطر بنایا جاتا ہے،لہٰذا ایسے کھانے کو کسی بھی صورت میں کھانا جائز نہیں ہے، خواہ کم قیمت میں خرید کر ہو یا بلا خریدے ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ أُهلَّ لِغَیْرِ اللّٰه بِه﴾ ۔ (سورة المائدة : ۳)

ما في ” تفسیر ابن کثیر “ : ﴿ِ وَمَآ أُهلَّ لِغَیْرِ اللّٰه بِه﴾ أي ما ذبح فذکر علیه إسم غیر اللّٰه ، فهو حرام ؛ لأن اللّٰه تعالی أوجب أن تذبح مخلوقاته علی إسمه العظیم ، فمتی عدل بها عن ذلک وذکر علیها إسم غیره من صنم ، أو طاغوت ، أو وثن ، أو غیر ذلک من سائر المخلوقات فإنها حرام بالإجماع ۔ (۴۷۹/۱)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : واعلم أن النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام وما یوٴخذ من الدراهم، والشمع، والزیت، ونحوها إلی ضرائح الأولیا الکرام تقربًا إلیهم فهو بالإجماع باطل وحرام ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله: (باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق ، والنذر للمخلوق لا یجوز؛ لأنه عبادة، والعبادة لا تکون لمخلوق۔

(۴۲۷/۳ ، کتاب الصوم ، قبیل باب الاعتکاف)

(فتاویٰ محمودیه :۳۱۴/۱، و:۳۳۰/۱) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۲/۳۰ھ

اوپر تک سکرول کریں۔