مدرسے کے طلبا کا مطبخ سے بلااذن ذمہ داران روٹیاں اُٹھا کر لانا!

(فتویٰ نمبر: ۱۷۲)

سوال:

۱-زید مدرسے کا طالبِ علم ہے ، مدرسے نے کھانے کا نظم طعام گاہ میں کیا ہے جہاں صرف کھانے کی اجازت ہے، وہاں سے کھانا لانے کی اجازت نہیں، تا ہم زید پلیٹ (Plate)سے روٹیاں اُٹھالاتا ہے،توکیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

۲-اسی طرح کالج کے اسٹوڈینٹس (Students) فیس (Fees) جمع کرکے کھاناکھا تے ہیں، نیز شکم سیر ہونے کے بعد بھی ساتھ کچھ روٹیاں لاتے ہیں، جب کہ انتظامیہ کی طرف سے اجازت نہیں ہے،پھر بھی یہ اسٹوڈینٹس (Students) کہتے ہیں کہ جائز ہے، تو اب ان کے اس عمل کی بابت شریعت کیا کہتی ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱-جامعہ کے جو طلبا اپنے کھانے کی فیس(Fees) ادا نہیں کرتے جامعہ ان کو جو کھانا دیتا ہے، ادارة الافتا کے علم کے مطابق وہ اباحةً ہے(۱) ،اور اس میں زمان ومکان کی شرط لگی ہوتی ہے،یعنی متعین وقت میں اور متعین جگہ پر ہی کھاسکتے ہیں،اور اباحت میں اس طرح کی کوئی شرط لگانا شر عاً جائز ہے(۲)؛اس لیے ڈائننگ ہال(Dining Hall) سے باہر روٹیاں یا سالن یا اور کوئی چیز لے جانا شرعاً جائز نہیں۔

۲-جو طلبا کھانے کی فیس(Fees) ادا کرتے ہیں خواہ وہ دینی تعلیم حاصل کررہے ہوں یا دنیوی، ان کے ساتھ کھانے کی بیع کا جو معاملہ کیا گیا ہے، وہ خلافِ قیاس جائز ہے(۳)، اور خلافِ قیاس ہونے کی وجہ یہ ہے کہ صحتِ بیع کے لیے مقدارِ مبیع کا معلوم ومتعین ہونا شرط ہے(۴)،جب کہ اس صورت میں یہ شرط مفقود ہے، لیکن ضرورت ا س بات کی داعی ہے کہ بیع کی یہ صورت جائز ہواور عرف بھی اس طرح کا ہوچکا ہے کہ” متعین قیمت ادا کرو اور پیٹ بھر کر کھانا کھالو“، جیسا کہ آج کل بڑی بڑی ہوٹلوں میں بیع کی یہ صورت مروج ہوچکی ہے، اور اس صورت میں چوں کہ مشتری کے لیے بقدرِ ضرورت ہوٹل ہی میں کھانے کی اجازت حاصل ہوتی ہے، باہر لے جانے کی نہیں؛اس لیے ان طلبا کے لیے بھی باہرلے جانا شرعاً جائز نہیں ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : الإباحة في اللغة – الإحلال ، یقال : أبحتک أي أحللته لک ، والمباح خلاف المحظور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔إباحة العباد کذلک علی نوعین : نوع یکون التسلیط فیه علی العین لاستهلاکها ، ونوع یکون التسلیط فیه علی العین للانتفاع بها فقط ۔ (۱۲۶/۱۱۳۲)

ما في ” کتاب التعریفات للجرجاني “ : الإباحة هي الإذن بإتیان الفعل کیف شاء الفاعل ۔ (ص/۱۲)

(۲) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : انتهاء مدتها إن کانت مقیدة بزمن ، فالموٴمنون عند شروطهم ، وإذا فقد الشرط فقد المشروط ۔ (۱۳۴/۱)

(۳) ما في ” جامع الترمذي “:”نهی رسول اللّٰه ﷺ عن بیع الغرر وبیع الحصاة “۔ (۲۳۳/۱)

(الصحیح لمسلم : ۷/۶ ، رقم : ۳۷۸۷)

ما في ” تکملة فتح الملهم “ : ما في جامع الأصول: الغرر ما له ظاهر توٴثره، وباطن تکرهه، فظاهره یغر المشتري، وباطنه مجهول۔۔۔۔۔۔۔۔ فأما الغرر بمعنی جهالة المبیع فربما یتحمل إذا کان یسیرًا دعت الحاجة إلیه، ولم یکن مفضیًا إلی المنازعة في العرف وفي مثله، قال النووي: أجمع المسلمون علی جواز أشیاء فیها غرر حقیر۔۔۔۔۔ فقدجرت العادة في بعض الفنادق الکبیرة أنهم یضعون أنواعًا من الأطعمة في قدورکبیرة، ویخیرون المشتري في أکل ماشاء بقدر ماشاء، ویأخذون ثمنًا واحدًا معینًا من کل أحد، فالقیاس أن لایجوز البیع لجھالة الأطعمة المبیعة وقدرها، ولکنه یجوز؛ لأن الجهالة یسیرة غیر مفضیة إلی النزاع، وقد جری بها العرف والتعامل۔(۳۱۹/۱،۳۲۰)

(۴) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وشرط الصحة معرفة قدر مبیع وثمن ۔(۱۲/۷ ، کتاب البیوع ، مطلب : شرائط البیع أنواع أربعة)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : لا بد لمعرفة المبیع من أن یکون معلومًا بالنسبة للمشتري بالجنس والنوع والمقدار ۔ (۱۶/۹) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد:محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۳۰/۱/۲۹ھ

اوپر تک سکرول کریں۔